پینٹاگون کو اپنے فوجیوں کی "مردانگی” پر شک؛ ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط لگا دی

تحریر: نہال معظم
سپر پاور کی عسکری تاریخ میں نت نئے تجربات تو ہوتے ہی رہے ہیں، لیکن امریکی پینٹاگون نے اس بار جو نیا شوشہ چھوڑا ہے، وہ دفاعی حکمتِ عملی سے زیادہ کسی دیسی حکیم کا اشتہار لگ رہا ہے۔ ففتھ جنریشن وارفیئر، ہائبرڈ جنگوں، خلائی سیٹلائٹس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اس جدید ترین دور میں، جہاں قوموں کے فیصلے اسکرینوں اور ہائی ٹیک بٹنوں سے ہو رہے ہیں، امریکی محکمہ دفاع نے ایک ایسا انوکھی اور مضحکہ خیز شرط رکھی ہے جس نے پوری دنیا کے دفاعی مبصرین کو حیرت اور قہقہوں کے دوطرفہ جال میں پھنسا دیا ہے۔ پینٹاگون نے اپنے تیس سال یا اس سے زائد عمر کے تمام فعال ڈیوٹی پر موجود فوجیوں کے لیے اب باقاعدہ ‘ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ’ پاس کرنے کی شرط لازمی قرار دے دی ہے۔ اب امریکی سپاہی کی جنگی صلاحیت، شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت کا فیصلہ اس کے فولادی ارادوں، جرات مندانہ فیصلوں یا عسکری تربیت سے نہیں، بلکہ اس کی رگوں میں دوڑنے والے مردانہ ہارمونز کے اتار چڑھاؤ کے گراف سے ہوا کرے گا۔
اس مضحکہ خیز اور بچکانہ پالیسی نے پینٹاگون جیسے دنیا کے سب سے بااثر اور خوفناک عسکری ہیڈ کوارٹر کو راتوں رات گویا کسی مردانہ کمزوری کے شفا خانے، دیسی دواخانے یا باڈی بلڈنگ جم میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ نو منتخب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی زیرِ نگرانی شروع ہونے والی اس "ہائی ٹی” (High-T) نامی مہم کا سارا فلسفہ ہی اس دیومالائی وہم پر ٹکا ہوا ہے کہ شاید میدانِ جنگ میں فتح صرف غصیلا چہرہ بنا کر، دھونس جما کر اور چوڑے چوڑے ڈولے شولے دکھا کر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ جدید عسکری تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ کسی ایٹمی قوت کے جوانوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی مشقوں اور جنگی تزویرات کے گہرے تجزیوں سے نکال کر لیبارٹریوں کے باہر قراروں میں کھڑا کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی حیاتیاتی مردانگی کا تصدیقی لیبل حاصل کر سکیں۔ اس مہم سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پینٹاگون کی نئی قیادت اب ملٹری اکیڈمیوں کی سخت تربیت پر بھروسہ کرنے کے بجائے صرف ہارمونل شیشیوں اور مصنوعی گولیوں کے بل بوتے پر سپر پاور کا کھویا ہوا رعب و دبدبہ بحال کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے۔
موضوع کا سب سے ستم ظریف پہلو یہ ہے کہ خود امریکی طبی ماہرین اور معتبر میڈیکل ایسوسی ایشنز پینٹاگون کی اس سائنسی جنونیت پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی ہیں۔ طبی سائنس کے مطابق، انسانی جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کوئی مستقل لکیر نہیں ہے جو ہر وقت ایک جگہ ٹکی رہے، بلکہ یہ دن بھر میں کئی بار اوپر نیچے ہوتی ہے۔ بغیر کسی ظاہری بیماری، شدید نقاہت یا طبی علامات کے اتنے بڑے پیمانے پر لاکھوں فوجیوں کی لازمی ہارمونل اسکریننگ کرنا طبی اصولوں کے خلاف اور وسائل کا زبردست ضیاع ہے۔ لیکن جب سیاست اور نظریہ عسکری عقل و دانش پر غالب آ جائیں، تو ایسے ہی مضحکہ خیز پراجیکٹس جنم لیتے ہیں۔ ستم ظریفی کی حد دیکھیے کہ ایک طرف واشنگٹن میں روزانہ یہ واویلا مچایا جاتا ہے کہ چین اور روس کی ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی اور خلائی ہتھیار امریکی تسلط کو چیلنج کر رہے ہیں، اور دوسری طرف پینٹاگون اپنے سالانہ دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ اب فوجیوں کا خون نچوڑ کر ان کی مردانگی کا لیول ماپنے پر برباد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
پینٹاگون کی یہ پالیسی آنے والے دنوں میں کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ تاہم ایک حقیقت تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ جنگیں صرف مضبوط عضلات یا بلند ٹیسٹوسٹیرون سے نہیں جیتی جاتیں۔ فیصلہ کن کردار قیادت، حکمتِ عملی، تربیت، نظم و ضبط، جدید ٹیکنالوجی اور سپاہی کے حوصلے کا ہوتا ہے۔ اگر عسکری پالیسیوں میں ان بنیادی عوامل کے ساتھ کسی ایک حیاتیاتی پیمانے کو غیر معمولی اہمیت دی جائے تو اس پر سوال اٹھنا بھی فطری ہے، اور یہی سوال آج پینٹاگون کی نئی پالیسی کے گرد عالمی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔



