40سال بعدچوری کی گئی کتاب معذرت کیساتھ واپس،100ڈالر بھی بھیج دیے

کیلیفورنیا(جانوڈاٹ پی کے) امریکا میں ایک کتابوں کی دکان کے عملے کو اس وقت خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں ایک ایسا پیکٹ موصول ہوا جس میں تقریباً 40 سال قبل چوری کی گئی کتاب موجود تھی۔ کتاب واپس کرنے والے شخص نے اپنی پرانی غلطی پر معذرت کرتے ہوئے ساتھ 100 ڈالر بھی بھیجے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 27 ہزار روپے سے زائد بنتے ہیں۔

یہ دلچسپ واقعہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے اولڈ ٹاؤن یوریکا (Old Town Eureka) میں واقع کتابوں کی دکان بک لیگرز (Bookleggers) میں پیش آیا۔

دکان کے عملے نے پیکٹ کھولا تو اس میں The Unstrung Harp نامی کتاب موجود تھی۔ کتاب کے ساتھ ایک خط بھی رکھا گیا تھا، جس میں بھیجنے والے شخص نے اعتراف کیا کہ اس نے تقریباً چار دہائیاں قبل طالب علمی کے زمانے میں یہ کتاب اسی دکان سے چوری کی تھی۔

40 سال پرانا اعتراف

خط میں شخص نے اپنی ماضی کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت طالب علم تھا اور شراب نوشی کی عادت میں مبتلا تھا۔ اسے شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا اور اسی دوران اس نے کتاب دکان سے چوری کرلی۔

اس شخص نے لکھا کہ اسے زندگی میں نہ صرف پیسوں کی ضرورت تھی بلکہ وہ ایک طرح کی روحانی بیداری کی تلاش میں بھی تھا۔ تاہم کئی دہائیاں گزرنے کے بعد اسے اپنی اس حرکت پر احساسِ ندامت ہوا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب اسے حال ہی میں اپنے گیراج کی صفائی کے دوران ایک ڈبے سے ملی۔ کتاب دوبارہ ہاتھ آنے پر اسے ماضی کا واقعہ یاد آیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ اسے ہر صورت اصل دکان تک واپس پہنچایا جائے۔

کتاب کے ساتھ 100 ڈالر بھی

خط میں موجود شخص نے بتایا کہ جب اسے معلوم ہوا کہ وہ دکان اب بھی قائم ہے تو اسے خوشی ہوئی اور اس نے کتاب واپس کرنے کے ساتھ معذرت کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس نے کتاب کے ساتھ 100 ڈالر بھی بھیجے اور دکان کے مالکان کو یہ اختیار دیا کہ اگر وہ اس معاملے میں مزید کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو اس سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

دکان مالک بھی متاثر ہوگئیں

دکان کی مالک جینیفر میکفیڈین نے بتایا کہ وہ اور ان کے ملازمین خط پڑھ کر انتہائی متاثر ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 40 سال گزرنے کے باوجود اس شخص نے اپنی غلطی کو یاد رکھا اور جب اسے موقع ملا تو اس نے نہ صرف کتاب واپس کی بلکہ اپنی غلطی پر معذرت بھی کی اور مالی تلافی کی کوشش کی۔جینیفر میکفیڈین کے مطابق انہیں سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ اتنے طویل عرصے بعد بھی اس شخص نے اپنی غلطی کو درست کرنے کی کوشش کی۔یہ واقعہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال بن گیا کہ بعض اوقات انسان اپنی ماضی کی غلطیوں کو بھولنے کے بجائے کئی دہائیوں بعد بھی ان کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے، اور ایک معمولی سی کتاب کی واپسی بھی کسی کے لیے ضمیر کے بوجھ سے نجات اور ماضی کی غلطی کا ازالہ بن سکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button