امریکی میزائل ذخائر سے متعلق خبریں ٹرمپ کیلئے دردِ سر بن گئیں،حساس معلومات کے افشا کی تحقیقات کاحکم

واشنگٹن (جانوڈاٹ پی کے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران امریکی فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچنے کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کے عسکری ذخائر سے متعلق معلومات کے افشا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے اور معاملے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں امریکی میڈیا میں متعدد ایسی رپورٹس شائع ہوئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکا کے بعض اہم ہتھیاروں، میزائلوں اور گولہ بارود کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان اطلاعات کے بعد امریکی انتظامیہ کے اندر بھی تشویش پائی جانے لگی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق میڈیا رپورٹس میں خاص طور پر میزائلوں، فضائی دفاعی نظام اور دیگر اہم جنگی سازوسامان کی دستیابی پر سوالات اٹھائے گئے، تاہم امریکی انتظامیہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے مطلوبہ عسکری صلاحیت، وسائل اور دفاعی تیاری موجود ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ عسکری ذخائر سے متعلق ایسی اطلاعات نہ صرف امریکی قومی سلامتی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں بلکہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات، سفارتی حکمت عملی اور امریکا کی مجموعی عسکری پوزیشن کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے نجی ملاقاتوں میں کابینہ کے ارکان اور اپنے قریبی مشیروں کے سامنے میڈیا میں آنے والی ان رپورٹس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ حساس دفاعی معلومات کا افشا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
امریکی حکام کے مطابق تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ عسکری ذخائر سے متعلق معلومات کس ذریعے سے میڈیا تک پہنچیں، آیا یہ معلومات جان بوجھ کر لیک کی گئیں یا سیکیورٹی نظام میں کسی خامی کے باعث افشا ہوئیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں ہتھیاروں اور میزائلوں کے ذخائر سے متعلق معلومات انتہائی حساس تصور کی جاتی ہیں، کیونکہ ایسی معلومات مخالف فریق کو امریکا کی عسکری صلاحیتوں اور حکمت عملی کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکا اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور قومی سلامتی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی



