تنہا عاشق اور بے دل محبوب:اے آئی عاشقی پر چین کی کڑی لگام!

تحریر:نہال معظم
پتھر کے صنم اور سنگ دل محبوب کے قصے تو آپ نے سنے ہوں گے مگر اب ‘سلیکون کے صنم’ بھی میدان میں آ چکے ہیں! آج دنیا ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں محبت، ہمدردی اور رفاقت جیسے مقدس و لطیف جذبات اب کسی گوشت پوست کے انسان کی توجہ کے محتاج نہیں رہے، بلکہ سکرین کی چمک کے پیچھے چھپے ہوئے بے جان کوڈز انسان کے جذباتی خلا کو بھرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
جب انسانوں کو ایک ایسا مجازی ساتھی مل جاتا ہے جو نہ کبھی طعنے دیتا ہے، نہ کوئی مطالبہ کرتا ہے اور نہ ہی کبھی چھوڑ کر جاتا ہے، تو انسان اپنے جیسے باقی تمام جیتے جاگتے انسانوں سے منہ موڑنے لگتا ہے۔ یہی وہ سحر انگیز جال ہے جس نے لاکھوں نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
یہ صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ بالآخر چین وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اس مصنوعی محبت پر کڑی لگام یعنی قانون بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین کا AI کے ذریعے قائم ہونے والے جذباتی تعلقات اور رفاقت کی خدمات کو قانون کے دائرے میں لانے کا تازہ ترین قدم دراصل ایک ایسی بھیانک حقیقت کی طرف اشارہ ہے جس کی دستک ہم اپنے اردگرد مسلسل سن رہے تھے مگر نظر انداز کر رہے تھے۔
یہ خبر محض ایک خبر نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا چونکا دینے والا موڑ ہے جہاں ریاست کو اپنے شہریوں کو کسی غیر ملکی حملے سے نہیں، بلکہ ایک معصوم اور دلکش شکل میں چھپے ہوئے سحر انگیز معشوق یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بچانا پڑ رہا ہے۔ غور کیجیے کہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حکومتوں کو قوانین بنا کر انسانوں کو یہ یاد دلانا پڑ رہا ہے کہ جس سے وہ رات کی تاریکیوں میں اپنے دل کا حال بیان کر رہے ہیں، جو ان کی ہر بات پر مسکراتا ہے اور کبھی ان سے روٹھتا نہیں، وہ دراصل کوئی انسان نہیں بلکہ سکرین کے پیچھے دھڑکتا ہوا ایک سرد اور بے حس الگورتھم ہے۔ چین نے جو قدم اٹھایا ہے وہ اس بات کا صاف اعتراف ہے کہ مصنوعی سحر نے انسانوں کی جذباتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
بچوں اور کم عمر افراد پر ورچوئل پارٹنرز کی پابندی اور بالغوں کے لیے الرٹ سسٹم کا قیام کوئی معمولی بات نہیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری آنے والی نسل ایک ایسے موہوم اور خوفناک فریب کا شکار ہو رہی تھی جہاں حقیقی تعلقات کی پیچیدگی، قربانی اور برداشت ختم ہو کر محض ایک بٹن کی کلک تک محدود ہو گئی تھی۔ تصور کیجیے کہ جب ایک بچہ کسی ایسے روبوٹک ساتھی کے ساتھ بڑا ہوگا جو اس کی ہر خواہش کو فوراً پورا کرتا ہے اور کبھی مخالفت نہیں کرتا، تو وہ بچہ مستقبل میں کسی حقیقی انسان کی خامیوں، غصے اور جذبات کو کیسے برداشت کرے گا؟ وہ تو انسانوں سے نفرت کرنے لگے گا کیونکہ مشینیں اسے کبھی تکلیف نہیں دیتیں۔ یوں وہ صلاحیت ہی ختم ہو جائے گی جو انسان کو انسانیت کا درس دیتی ہے۔
یہ مصنوعی رفاقت بظاہر تو تنہائی کا علاج معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں یہ تنہائی کی ایسی دلدل ہے جس سے نکلنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ جب چین میں چند بڑے AI پلیٹ فارمز نے اپنے رفاقت والے فیچرز بند کیے تو صارفین کا ردعمل زلزلے سے کم نہ تھا؛ لوگ یوں بلک اٹھے جیسے ان کا کوئی حقیقی محبوب ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا ہو۔ یہ ایک خوفناک منظرنامہ ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں انسان اپنی ذات کے خول میں بند ہو کر سلیکون ڈیوائسز سے روح کی باتیں کر رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک قانون، ایک نوٹیفکیشن یا سکرین پر ظاہر ہونے والی الرٹ وارننگ انسان کو اس مصنوعی سحر سے آزاد کروا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں، مسئلہ اس انسانی تنہائی اور ٹوٹ پھوٹ کا ہے جس نے ہمیں مشینوں کا محتاج بنا دیا ہے۔ ہم نے انسانوں سے ملنا، ان کی بات سننا اور ان کے جذبات کو سمجھنا چھوڑ دیا، اور اسی خالی پن میں AI نے اپنے پنجے گاڑ لیے۔ اگر ہم نے آج بھی اپنے بچھڑے ہوئے رشتوں، حقیقی مسکراہٹوں اور انسان دوست تعلقات کو دوبارہ نہ سنبھالا، تو وہ دن دور نہیں جب انسان کا وجود تو دنیا میں باقی رہے گا لیکن انسانیت کسی سرد الگورتھم کے قدموں میں دم توڑ چکی ہوگی۔



