ہلاک، زخمی یا روپوش؟ ایرانی سیاست کی پراسرار شخصیت احمدی نژاد کی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت ،کئی سوال دفن ،کئی امکانات متوقع!

نہال معظم:

تہران کی سڑکوں پر جب سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد خاموشی سے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے تشییعی جلوس میں نظر آئے تو یہ محض ایک شخص کی موجودگی نہیں تھی بلکہ مہینوں سے گردش کرنے والی افواہوں، قیاس آرائیوں اور خفیہ سیاسی کہانیوں کے درمیان ایک ایسا منظر تھا جس نے کئی سوالوں کو دفن کیا اور کئی نئے سوال پیدا کر دیے۔ جنگ کے دوران ان کی ہلاکت، زخمی ہونے، نظربندی، روپوشی اور یہاں تک کہ مستقبل کی کسی ممکنہ عبوری حکومت میں کردار سے متعلق ایسی متضاد اطلاعات سامنے آئیں کہ حقیقت اور افسانے کے درمیان لکیر دھندلا گئی۔ اب ان کا اچانک عوام کے سامنے آ جانا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایرانی سیاست میں بعض کردار کبھی مکمل طور پر منظر سے غائب نہیں ہوتے۔

محمود احمدی نژاد وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے ایک زمانے میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت ترین مؤقف اختیار کیا، ایران کے جوہری پروگرام کا جارحانہ دفاع کیا اور مغرب کے لیے سب سے متنازع ایرانی چہروں میں شمار ہوئے، لیکن اقتدار سے رخصتی کے بعد یہی شخصیت آہستہ آہستہ ریاستی اداروں، عدلیہ اور حکومتی ڈھانچے پر تنقید کرنے لگی۔ ان کی یہ تبدیلی اتنی غیر معمولی تھی کہ کبھی انہیں انقلابی نظام کا مضبوط ستون سمجھا جاتا تھا اور پھر وہی نظام ان کے سیاسی راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا دکھائی دیا۔ متعدد بار انہیں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا، ان کی سرگرمیوں پر پابندیوں اور نگرانی کی خبریں سامنے آئیں، جبکہ بعض حلقوں نے ان پر ایسے الزامات بھی عائد کیے جن میں ریاست کے خلاف سرگرمیوں تک کی بات کی گئی، اگرچہ ان الزامات پر کسی حتمی عدالتی فیصلے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

حالیہ جنگ نے اس پراسرار سیاست دان کے گرد اسرار کی ایک نئی تہہ چڑھا دی۔ ان کے گھر کے قریب حملے کے بعد مختلف خبریں گردش کرتی رہیں۔ کہیں انہیں ہلاک قرار دیا گیا، کہیں زخمی بتایا گیا اور کہیں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ وہ سخت نگرانی یا غیر اعلانیہ نظربندی سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ میں یہاں تک دعوے کیے گئے کہ بعض حلقوں نے انہیں مستقبل کی ممکنہ عبوری قیادت کے لیے زیر غور لایا تھا، تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق کبھی سامنے نہیں آ سکی۔ اس تمام عرصے میں احمدی نژاد کی خاموشی نے ہر نئی افواہ کو مزید طاقت دی، لیکن تشییعی جلوس میں ان کی موجودگی نے کم از کم یہ ثابت کر دیا کہ وہ اب بھی ایرانی سیاسی منظرنامے کا حصہ ہیں۔

ایرانی سیاست کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہاں صرف عہدے طاقت کی علامت نہیں ہوتے بلکہ بعض شخصیات اپنی علامتی حیثیت کی وجہ سے بھی اہم رہتی ہیں۔ احمدی نژاد انہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کے چاہنے والے انہیں عوامی سیاست کا نمائندہ کہتے ہیں جبکہ ناقدین انہیں غیر متوقع، جذباتی اور تنازعات کو جنم دینے والا رہنما قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سے برسوں دور رہنے کے باوجود ان کا ہر ظہور خبر بن جاتا ہے۔

ان کا دوبارہ منظر عام پر آنا ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ قیادت میں تبدیلی، جنگ کے اثرات، داخلی سیاسی صف بندی اور بین الاقوامی دباؤ نے پورے نظام کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں احمدی نژاد کا خاموش مگر نمایاں ظہور اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خود کو مکمل طور پر سیاسی کھیل سے باہر نہیں سمجھتے، یا پھر یہ محض ایک علامتی شرکت ہو جس کا مقصد صرف اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہو۔

یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ محمود احمدی نژاد مستقبل میں کوئی فعال سیاسی کردار ادا کر سکیں گے یا نہیں، کیونکہ ایرانی نظام میں اس نوعیت کے فیصلے صرف عوامی مقبولیت سے نہیں بلکہ طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان توازن سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ وہ ایک بار پھر خبروں کے مرکز میں ہیں۔ شاید یہی ان کی سب سے بڑی سیاسی صلاحیت بھی ہے کہ جب دنیا انہیں فراموش کرنے لگتی ہے تو وہ اچانک کسی ایسے منظر میں نمودار ہو جاتے ہیں جو پورے سیاسی بیانیے کو دوبارہ اپنی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ ایرانی سیاست کے اس پراسرار کردار کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ ممکن ہے اس کا اگلا باب پہلے سے بھی زیادہ غیر متوقع ثابت ہو۔

مزید خبریں

Back to top button