حماس کا اختتام ہے یا نئی شروعات؟ دو دہائیوں سے قائم حکومت تحلیل، پردے کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟

معظم فخر:

حماس کی جانب سے غزہ میں اپنی حکومتی یا ایمرجنسی انتظامی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا اعلان بظاہر ایک انتظامی فیصلہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر اثر انداز ہونے والا ایک ایسا واقعہ ہے جس کی گونج غزہ سے نکل کر تل ابیب، رام اللہ، قاہرہ، دوحہ، ریاض، انقرہ، واشنگٹن اور اقوام متحدہ تک سنائی دے سکتی ہے۔ تقریباً دو دہائیوں سے غزہ پر بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کرنے والی تحریک اگر اب خود اقتدار کی منتقلی کی بات کر رہی ہے تو یہ سوال فطری ہے کہ کیا حماس واقعی حکومت چھوڑ رہی ہے، یا یہ بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی ایک نئی سیاسی حکمت عملی ہے؟

حماس کی بنیاد 1987 میں پہلے فلسطینی انتفاضہ کے دوران رکھی گئی۔ یہ تحریک اخوان المسلمون کی فلسطینی شاخ سے ابھری اور اس نے خود کو صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ مزاحمتی، سماجی، مذہبی اور فلاحی تحریک کے طور پر متعارف کرایا۔ اس نے مساجد، مدارس، فلاحی اداروں، ہسپتالوں اور رفاہی نیٹ ورک کے ذریعے غزہ اور فلسطینی معاشرے میں گہری جڑیں بنائیں۔ وقت کے ساتھ اس کا عسکری ونگ "عزالدین القسام بریگیڈز” اسرائیل کے خلاف مسلح کارروائیوں کی علامت بن گیا، جبکہ اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور بعض دیگر ممالک اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں، جبکہ کئی ممالک اور حلقے اسے فلسطینی مزاحمت کی ایک اہم قوت تصور کرتے ہیں۔ یہی متضاد حیثیت حماس کو عالمی سیاست کا ایک منفرد اور متنازع کردار بناتی ہے۔

2006 کے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں حماس نے حیران کن کامیابی حاصل کی، لیکن اقتدار جلد ہی بحران میں بدل گیا۔ فتح اور حماس کے درمیان اختلافات مسلح تصادم تک جا پہنچے اور 2007 میں غزہ مکمل طور پر حماس کے کنٹرول میں آ گیا، جبکہ مغربی کنارہ فلسطینی اتھارٹی کے پاس رہا۔ اسی لمحے سے فلسطینی سیاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس تقسیم نے نہ صرف فلسطینی قومی جدوجہد کو نقصان پہنچایا بلکہ اسرائیل کو بھی یہ مؤقف اختیار کرنے کا موقع دیا کہ فلسطینیوں کی کوئی متحدہ قیادت موجود نہیں۔

گزشتہ برسوں میں قاہرہ، دوحہ، مکہ، الجزائر، ماسکو اور بیجنگ سمیت مختلف مقامات پر فلسطینی مفاہمت کی متعدد کوششیں ہوئیں، مگر ہر بار مسئلہ اقتدار، سکیورٹی اداروں اور اسلحے کے اختیار پر آ کر رک گیا۔ یہی وہ گرہ تھی جو کبھی نہیں کھل سکی۔

حالیہ تباہ کن جنگ نے پورا منظرنامہ بدل دیا۔ غزہ کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، لاکھوں افراد بے گھر ہیں، تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر درکار ہیں اور بین الاقوامی برادری مسلسل یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ غزہ کا انتظام ایک ایسی انتظامیہ کے سپرد کیا جائے جو وسیع تر فلسطینی اتفاقِ رائے کی حامل ہو اور جس کے ذریعے امداد اور تعمیرِ نو کا عمل شفاف انداز میں آگے بڑھ سکے۔ ایسے حالات میں حماس کا اپنی حکومتی کمیٹی تحلیل کرنا محض ایک تنظیمی قدم نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی اشارہ ہے۔

تاہم اصل سوال ابھی بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا حماس واقعی اقتدار چھوڑ رہی ہے یا صرف حکومتی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو رہی ہے؟ ریاست صرف وزارتوں اور سرکاری دفاتر سے نہیں چلتی بلکہ اصل طاقت سکیورٹی اداروں، اسلحے اور فیصلہ سازی کے اختیار میں ہوتی ہے۔ اگر عسکری قوت، داخلی سکیورٹی اور اہم سیاسی فیصلوں پر اثرورسوخ بدستور حماس کے پاس رہتا ہے تو حکومت کی تبدیلی زمینی حقائق کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کرے گی۔

اسی لیے نئی قومی انتظامی کمیٹی کے سربراہ علی شعث کا یہ کہنا کہ غزہ میں "ایک حکومت، ایک قانون اور ایک ہتھیار” ہونا چاہیے، اس پوری تبدیلی کا سب سے اہم نکتہ ہے۔ اس ایک جملے میں غزہ کے مستقبل کی پوری کہانی پوشیدہ ہے۔ اگر تمام فلسطینی دھڑے ایک مشترکہ سیاسی اور سکیورٹی نظام پر متفق ہو جاتے ہیں تو تقریباً دو دہائیوں بعد فلسطینی سیاست دوبارہ متحد ہو سکتی ہے، لیکن اگر اسلحے اور اختیار کا مسئلہ برقرار رہتا ہے تو نئی کمیٹی بھی پرانے بحرانوں کا شکار ہو سکتی ہے۔

حماس کے اس فیصلے کے پیچھے ایک اور اہم پہلو بھی نظر آتا ہے۔ ممکن ہے تحریک اب خود کو حکمران جماعت کے بجائے ایک سیاسی اور مزاحمتی تحریک کے طور پر دوبارہ منظم کرنا چاہتی ہو، تاکہ حکومتی ذمہ داریوں، معاشی بحران اور بین الاقوامی دباؤ کا بوجھ ایک ٹیکنوکریٹ انتظامیہ اٹھائے جبکہ حماس اپنی سیاسی اور تنظیمی قوت برقرار رکھے۔ اگر ایسا ہے تو یہ اقتدار سے دستبرداری نہیں بلکہ کردار کی تبدیلی ہوگی۔

دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی کے لیے بھی یہ ایک تاریخی امتحان ہوگا۔ اگر وہ غزہ میں مؤثر، شفاف اور قابلِ اعتماد حکمرانی قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو حماس کے لیے دوبارہ سیاسی میدان میں مضبوط واپسی کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی، عرب ممالک کی سفارتی حکمت عملی، امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ سے متعلق ایجنڈا، ایران کا علاقائی کردار اور غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے بھی اسی تبدیلی کے نتائج سے متاثر ہوں گے۔

اس لیے حماس کی حکومتی کمیٹی کی تحلیل کو صرف ایک انتظامی خبر سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ فلسطینی سیاست کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ہو سکتا ہے اور ایک ایسی سیاسی حکمت عملی بھی، جس کا مقصد بدلتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی حالات میں اپنی بقا کو یقینی بنانا ہو۔ آنے والے مہینے فیصلہ کریں گے کہ کیا واقعی دو دہائیوں پر محیط ایک سیاسی دور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے یا حماس صرف اپنی چال بدل کر ایک نئے انداز میں دوبارہ اسی بساط پر کھیلنے کی تیاری کر رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button