ذیابیطس کے مریضوں کے لیے قدرت کا تحفہ ,سٹیویا سے بہتر چینی کا متبادل”مونک فروٹ”

لاہور(راجہ نوید)​جدید دور میں صحت بخش طرزِ زندگی اور متوازن غذا کی تلاش نے انسان کو چینی کے نت نئے متبادلات دریافت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ طویل عرصے تک مصنوعی مٹھاس اور پھر سٹیویا کو چینی کا بہترین نعم البدل سمجھا جاتا رہا، لیکن اب غذائی ماہرین اور صحت کے شعور سے لیس افراد کی توجہ ایک نئے قدرتی تحفے کی طرف مبذول ہو رہی ہے جسے مونک فروٹ کہا جاتا ہے۔ جنوبی چین کے پہاڑی علاقوں میں پایا جانے والا یہ چھوٹا سا خربوزہ نما پھل صدیوں سے روایتی چینی ادویات کا حصہ رہا ہے، مگر آج یہ عالمی سطح پر چینی اور سٹیویا دونوں کے مقابلے میں ایک زیادہ مقبول اور جادوئی متبادل بن کر ابھر رہا ہے۔ مونک فروٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر قدرتی، نباتاتی اور صفر کیلوریز کا حامل سوئیٹنر ہے جو انسانی جسم میں کاربوہائیڈریٹس یا شوگر کی مقدار میں رتی برابر بھی اضافہ نہیں کرتا۔

​جب ہم اس کا موازنہ سٹیویا سے کرتے ہیں تو مونک فروٹ کئی حوالوں سے بازی لے جاتا دکھائی دیتا ہے۔ سٹیویا اگرچہ ایک پودے کے پتوں سے حاصل ہوتا ہے اور صحت کے لیے مفید ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا عیب وہ کڑواہٹ یا عجیب سا بعد میں آنے والا ذائقہ ہے جسے انگریزی میں آفٹر ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔ چائے یا کافی میں سٹیویا کا استعمال اکثر مشروب کے اصل ذائقے کو متاثر کرتا ہے، جبکہ مونک فروٹ کا ذائقہ انتہائی ہلکا، صاف اور چینی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اس پھل کی مٹھاس عام چینی کے مقابلے میں سو سے ڈھائی سو گنا زیادہ ہوتی ہے اور یہ مٹھاس کسی روایتی شکر یا کاربوہائیڈریٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس میں موجود ایک خاص اینٹی آکسیڈنٹ کمپاؤنڈ کی وجہ سے ہوتی ہے جسے موگروسائڈز کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ اسے اپنی گرم کافی یا چائے میں شامل کرتے ہیں تو یہ اپنی مٹھاس برقرار رکھتا ہے کیونکہ یہ شدید درجہ حرارت میں بھی اپنی کیمیائی ساخت تبدیل نہیں کرتا اور مشروب کے ذائقے کو خراب کیے بغیر اسے خوشگوار بنا دیتا ہے۔

​ذیابیطس، پری ذیابیطس یا وزن کم کرنے کی کوشش میں مصروف افراد کے لیے مونک فروٹ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ چونکہ یہ خون میں گلوکوز یا انسولین کی سطح کو بالکل نہیں بڑھاتا، اس لیے شوگر کے مریض اسے بغیر کسی خوف کے اپنے روزمرہ کے معمولات میں شامل کر سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر امریکی ادارے ایف ڈی اے نے بھی اسے استعمال کے لیے مکمل طور پر محفوظ قرار دیا ہے۔ تاہم، بازار سے مونک فروٹ خریدتے وقت صارفین کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ خالص مونک فروٹ انتہائی مرتکز اور شدید میٹھا ہوتا ہے، اس لیے مینوفیکچررز اس کا حجم بڑھانے کے لیے اس میں دیگر اجزا جیسے ایریتھریٹول یا ڈیکسٹروز شامل کر دیتے ہیں۔ اس لیے پیکٹ پر لکھی ہوئی معلومات کو پڑھنا نہایت ضروری ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کیا استعمال کر رہے ہیں۔

​ان تمام فوائد کے باوجود ماہرینِ صحت یہ تنبیہ بھی کرتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی سوئیٹنر، خواہ وہ کتنا ہی قدرتی کیوں نہ ہو، وزن کم کرنے یا صحت مند رہنے کا کوئی جادوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت بھی واضح کر چکا ہے کہ صرف غیر شکر والے میٹھوں پر انحصار کرنے سے طویل مدتی وزن کنٹرول نہیں ہوتا جب تک کہ آپ ایک متوازن خوراک اور باقاعدہ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ نہ بنائیں۔ مونک فروٹ یقیناً سٹیویا کے کڑوے ذائقے اور کیمیائی مٹھاس کا ایک بہترین، صحت بخش اور خوش ذائقہ متبادل ہے، لیکن حقیقی تندرستی اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب انسان مجموعی طور پر شدید میٹھا کھانے اور پینے کی اپنی جبلت اور عادت کو رفتہ رفتہ کم کرنے کی کوشش کرے۔

مزید خبریں

Back to top button