ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ’’اسلام آبادمعاہدہ‘‘ختم ہوگیا،ایرانی وزارت خارجہ

آبنائےہرمز کے قریب نئی کشیدگی،بندر عباس اورجزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا  ہے کہ مسلسل حملوں کے بعد امریکا کے ساتھ جنگ بندی کا اسلام آباد ایم او یو ختم ہوچکا ہے،ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے امریکی فوجی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ایران کے جنوبی ساحلی شہر بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف ایک بار پھر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند راتوں کے دوران ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر امریکی افواج کی جانب سے حملے کیے گئے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں متعدد ماہی گیر اور وطن کے دفاع پر مامور اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ایرانی حکام نے ان حملوں کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دے رہا ہے۔دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ان تازہ دھماکوں یا ایرانی الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے شپ ٹریکنگ کمپنی کپلر کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اتوار کے روز صرف چھ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

امریکی افواج کاایران کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا جانی نقصان کویت میں ہوا، امریکی اخبار

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگی کشیدگی کے دوران کویت کی شعیبہ بندرگاہ پر ہونے والا ایرانی ڈرون حملہ امریکی فوج کیلئے سب سے زیادہ جانی نقصان والا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یکم مارچ کو ہونے والے اس حملے میں 6 امریکی فوجی مارے گئے جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض زخمی فوجیوں کی حالت تشویشناک بھی بتائی گئی ہے۔اخبار کے مطابق حملے سے بچ جانے والے امریکی اہلکاروں نے سوال اٹھایا کہ اگر پہلے سے موجود خطرے کی اطلاعات پر توجہ دی جاتی تو نقصان کو کم کیا جا سکتا تھا۔امریکی افواج کا ایران کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا جانی نقصان کویت میں ہوا، امریکی اخبار

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی کمانڈرز کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا اور تنصیب کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے گئے تھے تاہم ان وارننگز پر مکمل عمل نہ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button