ایران سے سستا تیل خریدنے کے امکانات روشن، پاکستان کو بڑا معاشی ریلیف ملنے کی توقع

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) ایران پر امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد پاکستان کے لیے ایران سے خام تیل اور گیس کی نسبتاً کم قیمت پر خریداری کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، جبکہ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ درست حکمت عملی اور مؤثر تجارتی معاہدوں سے ملک کو نمایاں معاشی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ ایران سے خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے رابطے جاری ہیں، تاکہ ملکی معیشت کے لیے موزوں اور کم لاگت توانائی حاصل کی جا سکے۔

توانائی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان ایران سے براہِ راست حکومتی سطح پر معاہدہ کرتا ہے اور درمیانی ثالثوں (مڈل مین) کا کردار ختم کر دیا جائے تو فی بیرل خام تیل کی قیمت میں واضح کمی ممکن ہے۔ جغرافیائی قربت کے باعث شپنگ اور فریٹ کے اخراجات بھی کم ہوں گے، جس سے مجموعی درآمدی لاگت میں کمی آئے گی۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران عالمی منڈی میں دوبارہ اپنی جگہ بنانے کے لیے بعض خریداروں کو 3 سے 10 ڈالر فی بیرل تک رعایت بھی دے رہا ہے، جس سے پاکستان جیسے ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا خام تیل نسبتاً بھاری نوعیت کا ہے، اس لیے پاکستانی ریفائنریز کو اسے ہلکے خام تیل کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا ہوگا، جس سے بہتر پیداوار اور کم لاگت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ایران کی عالمی منڈی میں واپسی کے بعد انتہائی سستا تیل مستقل بنیادوں پر دستیاب ہونا ممکن نہیں، تاہم محدود رعایت، کم ٹرانسپورٹ لاگت اور سازگار تجارتی شرائط کی صورت میں پاکستان کو قابلِ ذکر ریلیف مل سکتا ہے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران پر عالمی پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جائیں اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں جامع معاہدہ طے پا جائے تو مستقبل میں پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم 150 روپے فی لیٹر سے کم قیمت جیسے اندازے فی الحال ماہرین کی رائے اور مخصوص مفروضوں پر مبنی ہیں، اس بارے میں کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button