دبئی میں بوائے فرینڈ کے قتل کے الزام میں گرفتار برطانوی ٹک ٹاکر کو سزائے موت کا سامنا

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی میں اپنے بوائے فرینڈ کے قتل کے الزام میں گرفتار 23 سالہ برطانوی ٹک ٹاک انفلوئنسر بروک جارج کو، جرم ثابت ہونے کی صورت میں، سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خاتون نے یہ اقدام مبینہ طور پر اپنی جان بچانے کے لیے کیا۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے علاقے گریوزینڈ سے تعلق رکھنے والی بروک جارج کو 22 جون کو حراست میں لیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ کو چاقو کے وار کر کے قتل کیا۔
انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق بروک جارج کا مؤقف ہے کہ ان کا بوائے فرینڈ کافی عرصے سے ان پر تشدد کر رہا تھا اور واقعے کے روز بھی اس نے ان پر حملہ کیا، جس کے بعد انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے قریب پڑا کچن کا چاقو استعمال کیا۔
تنظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ دورانِ حراست بروک جارج کو خاتون اہلکار کی موجودگی کے بغیر مرد پولیس اہلکاروں کے سامنے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا، جسے انہوں نے توہین آمیز اور ذہنی اذیت کا باعث قرار دیا۔
بروک جارج کی والدہ کا کہنا ہے کہ واقعے سے قبل ان کی بیٹی شدید خوفزدہ تھی، اس کی ایک آنکھ سوجی ہوئی تھی اور وہ مسلسل برطانیہ واپس آنے کی کوشش کر رہی تھی۔
دوسری جانب برطانیہ کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں زیرِ حراست برطانوی خاتون اور ان کے اہلِ خانہ کو قونصلر معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک بروک جارج کو ضمانت پر رہا کیا جائے اور مقدمے کا جائزہ گھریلو تشدد اور حقِ دفاع کے تناظر میں لیا جائے۔



