بھارت کادہشتگردی بیانیہ دفن ہو چکا،معرکہ حق میں پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا،ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (جانوڈاٹ پی کے) ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا بیانیہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے اور معرکہ حق کے دوران دنیا نے دیکھ لیا کہ خطے میں ذمہ دارانہ کردار کون ادا کر رہا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کو ایک سال گزرنے کے باوجود کئی اہم سوالات آج بھی عالمی برادری، پاکستانی عوام اور خود بھارتی عوام کے سامنے موجود ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر پاکستان کی مسلح افواج، بحریہ اور فضائیہ کی کارکردگی اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے فوراً بعد چند ہی منٹوں میں ایف آئی آر درج کر کے یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے، حالانکہ آج تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی انٹیلی جنس اتنی ہی مؤثر اور باخبر تھی تو سینکڑوں کلومیٹر اندر آنے والے افراد کے بارے میں پہلے سے معلومات کیوں نہ مل سکیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وقت بھارتی ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج بھی بین الاقوامی برادری یہی سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعے کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کے عوام کے ساتھ ساتھ بھارت کے باشعور حلقے بھی ان سوالات کے جواب مانگ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے اگلے ہی روز بھارتی وزیر اطلاعات بین الاقوامی میڈیا کو ساتھ لے کر گئے، تاہم اس کے باوجود دنیا کو قابلِ اعتماد شواہد فراہم نہیں کیے جا سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نمائندے مختلف مقامات اور مساجد تک گئے اور انہوں نے خود یہ سوال اٹھایا کہ آخر حملوں میں کون لوگ نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ متاثرین میں بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت بار بار پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا رہا، لیکن معرکہ حق کے بعد یہ “ڈرامہ” ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب خود دیکھ رہی ہے کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والا کردار کون ادا کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور کشیدگی کو قابو میں رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف خطے کے امن کو مقدم رکھا بلکہ صورتحال کو مزید خطرناک ہونے سے بھی روکا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ کشیدگی کو کنٹرول کرنے اور خطے کو مستحکم رکھنے میں پاکستان نے ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا، جبکہ بھارت جذباتی بیانات، سیاسی مقاصد اور اشتعال انگیز رویوں کے ذریعے پورے خطے کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرتا رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت خود کو خطے کا “نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا، تاہم معرکہ حق کے دوران عالمی برادری نے حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔
ڈی جی آئی ایس پی آراحمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ اگر آج بھی خطے میں استحکام کے لیے سب سے زیادہ کوئی ملک کوشش کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت کی نام نہاد پیشہ ورانہ عسکری سوچ کی کئی مثالیں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے ایسے بیانات دیے گئے جو ایک پیشہ ور فوجی رویے کے بجائے سیاسی نوعیت کے دکھائی دیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی فوجی قیادت اپنے سیاسی بیانیے کو فوجی اداروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے پورے عرصے کے دوران مکمل پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کے کسی افسر نے کبھی سیاسی قیادت کے بیانات کو بنیاد بنا کر اشتعال انگیز طرزِ گفتگو اختیار نہیں کیا، جبکہ بھارتی سیاست دانوں کے بیانات اکثر جنگی ماحول پیدا کرنے والے محسوس ہوتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز نعرے اور جارحانہ بیانات سامنے آتے رہے، لیکن پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ داری، تحمل اور پیشہ ورانہ انداز اپنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر بھارت کو کسی معاملے پر اعتراض یا اختلاف ہے تو اسے اشتعال انگیز بیانات کے بجائے براہِ راست اور ذمہ دارانہ انداز میں بات کرنی چاہیے۔



