کرسٹوفر نولان کی اجرک ٹائی نے سندھ کی ثقافت کو عالمی توجہ دلا دی

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)ہالی وڈ کے معروف فلم ساز کرسٹوفر نولان اپنی سادہ اور کلاسک ڈریسنگ کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن اس بار ان کی نئی فلم ’’دی اوڈیسی‘‘ کے نیویارک پریمیئر میں ان کے لباس کی ایک منفرد چیز نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔
نولان نے روایتی سوٹ کے ساتھ سندھ کی تاریخی دستکاری اجرک کے نقش و نگار سے مزین خصوصی ریشمی ٹائی پہن رکھی تھی، جس نے سوشل میڈیا پر خوب داد سمیٹی اور سندھ کی ثقافت کو عالمی سطح پر نمایاں کردیا۔
یہ خصوصی ٹائی پارسنز اسکول آف ڈیزائن کے طالب علم آہان ٹنڈن نے ڈیزائن کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چند روز قبل کرسٹوفر نولان اپنی فلم کی تشہیری مہم کے سلسلے میں بھارت بھی گئے تھے، جہاں فلم کے مرکزی اداکار میٹ ڈیمن اور ٹام ہالینڈ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ یہ نولان کی کسی فلم کا بھارت میں پہلا باضابطہ پریمیئر بھی تھا، تاہم نیویارک واپسی پر ان کی اجرک سے مزین ٹائی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔
پاکستانی فیشن رائٹر ماہ رخ نے بھی انسٹاگرام پر نولان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے دلچسپ انداز میں لکھا، ’’کرسٹوفر نولان بھائی جان، بڑا مزہ آ گیا، کیا یہ اجرک ٹائی ہے؟‘‘
ان کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر نہ صرف اس ٹائی بلکہ اجرک کی تاریخ، ثقافتی اہمیت اور عالمی شناخت پر بھی بھرپور گفتگو شروع ہوگئی۔
ماہرین کے مطابق اجرک صرف ایک خوبصورت کپڑا نہیں بلکہ سندھ کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی شناخت کی علامت ہے۔ یہ برصغیر کی قدیم ترین بلاک پرنٹنگ روایات میں شمار ہوتی ہے، جس کی جڑیں سندھ میں پیوست ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ یہ فن گجرات کے کچھ اور راجستھان کے بارمیر تک بھی پھیل گیا۔ آج بھی سندھ کے ہالا، بھٹ شاہ، خیرپور اور دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ کچھ کا اجرک پور اس فن کے نمایاں مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
لفظ اجرک کی اصل کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں۔ بعض محققین اسے عربی لفظ ’’ازرق‘‘ سے منسوب کرتے ہیں، جس کا مطلب نیلا ہے، کیونکہ روایتی اجرک میں نیل کا استعمال نمایاں ہوتا ہے۔ کچھ ماہرین اسے سنسکرت کے لفظ ’’اجر‘‘ سے جوڑتے ہیں، جس کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو ہمیشہ برقرار رہے، جبکہ ایک مقبول لوک روایت کے مطابق یہ لفظ ’’آج رکھ‘‘ سے نکلا، کیونکہ اجرک کی تیاری کے ہر مرحلے کے بعد اگلے دن کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
اجرک کی تیاری مکمل طور پر ہاتھ سے کی جاتی ہے اور اسے ایک نہایت صبر آزما فن سمجھا جاتا ہے۔ کپڑے کو بار بار دھویا جاتا ہے، قدرتی اجزا سے تیار کیا جاتا ہے اور پھر ہاتھ سے تراشے گئے لکڑی کے بلاکس کے ذریعے ایک ایک تہہ چھاپی جاتی ہے۔ ہر رنگ الگ مرحلے میں شامل کیا جاتا ہے، جس کے بعد کپڑا دوبارہ دھویا اور خشک کیا جاتا ہے۔ روایتی اجرک کی تیاری میں درجنوں مراحل شامل ہوتے ہیں جبکہ اس کے نمایاں رنگ بھی فطرت سے حاصل کیے جاتے ہیں، جن میں نیل، مجیٹھ، لوہا، گڑ اور دیگر قدرتی اجزا شامل ہیں۔ اسی وجہ سے اصل اجرک میں معمولی بے قاعدگی بھی اس کی خوبصورتی اور دستکاری کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔
فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ’کوائٹ لگژری‘ کا رجحان تیزی سے مقبول ہوا ہے، جہاں بڑے برانڈز کے لوگوز کے بجائے معیاری دستکاری، روایت اور نفاست کو اہمیت دی جاتی ہے۔ نولان کی اجرک ٹائی بھی اسی سوچ کی عکاس نظر آئی، جس نے یہ ثابت کیا کہ روایتی ثقافتی ورثہ بھی جدید عالمی فیشن کا حصہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب نولان کی نئی فلم "دی اوڈیسی” قدیم یونانی شاعر ہومر کی مشہور رزمیہ داستان پر مبنی ہے۔ فلم میں میٹ ڈیمن یونانی ہیرو اوڈیسیئس کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ٹام ہالینڈ، این ہیتھاوے، زینڈایا، رابرٹ پیٹنسن، لوپیتا نیونگو، چارلیز تھیرون اور دیگر معروف اداکار بھی کاسٹ کا حصہ ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک طرف کرسٹوفر نولان اپنی نئی فلم کے ذریعے دنیا کی قدیم ترین داستانوں میں سے ایک کو بڑے پردے پر پیش کر رہے ہیں، تو دوسری جانب انہوں نے اپنے لباس میں سندھ کی صدیوں پرانی ثقافتی روایت اجرک کو شامل کرکے اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا، جسے سوشل میڈیا صارفین نے سندھ کی ثقافت کے لیے ایک خوش آئند لمحہ قرار دیا۔



