بیڈو سیٹلائٹ نیٹ ورک سے یوآن ٹریڈ تک،خطے میں ڈالر اور بھارتی بالادستی کے خاتمے کا آغاز

تحریر:معظم فخر
جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹکس اس وقت ایک ایسے تاریخی اور تزویراتی زلزلے کی زد میں ہے جس نے دلی سے لے کر واشنگٹن تک کے مقتدر حلقوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ حال ہی میں بیجنگ کے ایوانوں سے جاری ہونے والے پاک چین مشترکہ اعلامیے اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے نئے عسکری و اقتصادی معاہدوں نے خطے کا جیو پولیٹیکل نقشہ اور طاقت کا روایتی توازن ہمیشہ کے لیے تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ نئی صف بندی محض روایتی دفاعی سودوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر جیو سٹریٹیجک نیٹ ورک کا حصہ ہے جس میں پاکستان، چین اور اب بنگلہ دیش بھی شامل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت اپنے ہی پڑوس میں تیزی سے تزویراتی گھیرے اور علاقائی تنہائی کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس نئی اور دوررس نتائج کی حامل جیو پولیٹیکل پیش رفت کا سب سے اہم اور دھماکا خیز پہلو پاک چین دفاعی اور آپریشنل انضمام (Operational Integration) کو ایک بالکل نئے اور اعلیٰ ترین درجے پر لے جانا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل المیعاد نوعیت کا ایک ایسا جامع عسکری معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت پاکستان کو چین کی ان خفیہ اور جدید ترین اسٹیلتھ ٹیکنالوجیز اور ففتھ جنریشن جگی تیاروں (جسیے جے-20 اور جے-35) اور کوانٹم رڈار سسٹم تک رسائی دی جا رہی ہے جو اس وقت صرف چینی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے زیرِ استعمال ہیں۔ چین نے نہ صرف ان ٹیکنالوجیز تک پاکستان کو رسائی دی ہے بلکہ مکمل ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا فول پرو ف عسکری پیکیج بھی فراہم کیا ہے۔ اس سے بڑھ کر، پاکستان کو چین کے مجموعی تزویراتی دفاعی نیٹ ورک اور بیڈو (Beidou) سیٹلائٹ گائیڈنس سسٹم میں مستقل طور پر اس طرح ضم کر دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کا آپریشنل ڈیٹا اور عسکری سافٹ ویئر ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔ یہ پیش رفت روایتی ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے تعلق سے کہیں آگے کی چیز ہے، جس نے واشنگٹن میں بیٹھی بااثر لابیوں اور دلی کے تزویراتی ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
سفارتی محاذ پر بھی بیجنگ اعلامیے نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ چین نے دو ٹوک انداز میں پاکستان کی قومی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اپنی غیر متزلزل اور لوہے جیسی مضبوط حمایت کا اعادہ کر کے دشمن قوتوں کو واضح پیغام دیا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے ون چائنہ پالیسی کے تحت سنکیانگ، تائیوان اور اروناچل پردیش سمیت مکمل تبت (جسے چین جنوبی تبت کہتا ہے) پر بیجنگ کے موقف کی کھل کر اور غیر مشروط حمایت کی ہے، جس پر بھارتی وزارتِ خارجہ نے شدید بوکھلاہٹ کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی اس کامیاب ڈپلومیسی نے تبت اور کشمیر دونوں دیرینہ تنازعات پر پاک چین مشترکہ تزویراتی وزن کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب، خطے میں ایک اور بڑا بریک تھرو پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں آیا ہے۔ 1971ء کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے درمیان ماضی کی سردمہری کا خاتمہ ہوا ہے اور ایک گہری عسکری شراکت داری قائم ہو چکی ہے۔ بنگلہ دیشی فضائیہ نے اپنی پرانی روسی اور چینی ٹیکنالوجی کو الوداع کہہ کر پاکستان سے 40 عدد جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کے حصول کا حتمی پلان تیار کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے جے ایف-17 تھنڈر کے دو جدید ترین فل مشن سیمولیٹرز (Simulators) ڈھاکہ بھجوانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بنگلہ دیشی پائلٹس کی کنورژن ٹریننگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ اس عسکری گٹھ جوڑ نے بھارت کی مشرقی سرحد اور خصوصاً اس کی سب سے کمزور تزویراتی رگ—سلگڑی کوریڈور یعنی "چکن نیک”—کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مزید برآں، پاکستان کے نیول چیف کے دورہ ڈھاکہ کے بعد پاکستانی بحریہ کو بنگلہ دیشی بندرگاہوں پر ری فیولنگ کی سہولت ملنے جا رہی ہے، جس نے خلیج بنگال میں بھارت کی بحری بالادستی کے دعووں کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔
اس بدلتی ہوئی عالمی بساط پر آخری اور سب سے کاری وار "سارک” تنظیم کے متبادل ایک نئے علاقائی اقتصادی و تزویراتی اتحاد کی تشکیل کی صورت میں کیا جا رہا ہے۔ سارک تنظیم، جو بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے طویل عرصے سے ایک مردہ لاش بن چکی تھی، کے متبادل کے طور پر چین نے پاکستان کو یہ بڑی ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ خطے کے دیگر ممالک کو اکٹھا کر کے ایک نیا فورم تشکیل دے۔ اس مجوزہ اتحاد کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھارت کو مکمل طور پر مائنس کر دیا گیا ہے جبکہ بنگلہ دیش, نیپال اور مالدیپ نے پہلے ہی اس نئے بلاک میں شامل ہونے اور صدر شی جن پنگ کے گلوبل اکنامک انیشیٹو کا حصہ بننے کے لیے پاکستان کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ یہ نیا بلاک نہ صرف بھارت کو خطے میں الگ تھلگ کر دے گا، بلکہ اس فورم کے تحت ہونے والی تمام علاقائی تجارت امریکی ڈالر کے بجائے چینی یوآن یا مقامی کرنسیوں میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی ہے، جو ڈالر پر عالمی انحصار کو ختم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا۔ پاک چین کا یہ تزویراتی اور اقتصادی ماسٹر اسٹروک خطے میں ایک نئے اور ناقابلِ تسخیر بلاک کے عروج کا واضح اعلان ہے۔



