گرفتاریاں اور چھاپے بھی بے اثر! عوامی تحریک کی سندھ بچاؤ مہم جاری، کھڈہرو میں بڑی ریلی

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)گرفتاریوں اور پولیس چھاپوں کے باوجود عوامی تحریک کی عوامی بیداری مہم نہ رک سکی، دیئی کے بعد کھڈہرو میں بھی سندھ کی تقسیم، معدنی وسائل اور زمینوں پر مبینہ قبضوں اور جلالپور کینال سمیت دیگر نہروں و ڈیموں کی تعمیر کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
رپورٹ کے مطابق دیئی میں عوامی تحریک کی ریلی کے بعد بدین پولیس نے مبینہ طور پر تنظیم کے ضلعی صدر مہران درس، مرتضیٰ شام اور دیگر کارکنوں کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ دیئی پولیس نے عوامی تحریک بدین کے رہنما لکھاڈنو خاصخیلی کو دیئی شہر میں ان کی کیبن سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
تاہم پولیس کارروائیوں کے باوجود عوامی تحریک کی جانب سے جاری عوامی بیداری مہم کا سلسلہ جاری رہا اور طے شدہ پروگرام کے مطابق دیئی کے بعد کھڈہرو میں بھی بڑی ریلی نکالی گئی۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک بدین کے ضلعی صدر مہران درس، مرتضیٰ شام، پرشوتم، علی جمالی، کرشن کولہی، آچار کولہی اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کے حقوق، وحدت اور وسائل کے تحفظ کیلئے پرامن جمہوری جدوجہد ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔
مقررین نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے دفعہ 144 کے نفاذ کی صورت میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ کر رکھا ہے۔ انہوں نے دفعہ 144 کو انگریز دور کا ’’کالا قانون‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کسی بھی قانون یا آئینی ترمیم کے ذریعے قبول نہیں کی جائے گی۔
عوامی تحریک کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم سمیت کسی بھی اقدام کے ذریعے سندھ کی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف بھرپور اور پرامن جمہوری جدوجہد کی جائے گی۔
مقررین نے سندھ کے معدنی وسائل اور زمینوں کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی بیداری مہم صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سندھ کے مختلف شہروں میں اس کا سلسلہ مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
عوامی تحریک کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گرفتاریاں، چھاپے اور دباؤ سندھ کے حقوق کیلئے جاری سیاسی و جمہوری جدوجہد کو نہیں روک سکتے اور آئندہ بھی مختلف علاقوں میں عوامی رابطہ مہم اور احتجاجی پروگرام جاری رکھے جائیں گے۔



