پاکستان کی فاسٹ بولنگ کیوں تباہ ہوئی؟عروج ممتاز نے پچزاوربابر اعظم مجرم قراردیدیا

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی پہچان سمجھی جانے والی تیز رفتار فاسٹ بولنگ کے زوال کی بڑی وجہ سامنے آگئی، سابق پاکستانی کرکٹر عروج ممتاز نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹنگ کیلئے سازگار پچز کو قومی فاسٹ بولنگ کے مسائل کی اہم وجہ قرار دے دیا۔

مائیکل ایتھرٹن کے سوال پر گفتگو کرتے ہوئے عروج ممتاز نے کہا کہ پاکستان میں تیار کی جانے والی پچز ایک بڑا مسئلہ ہیں اور مختلف حالیہ سیریز میں اس کے اثرات واضح طور پر دیکھے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فاسٹ بولنگ کئی دہائیوں تک پاکستان کی سب سے بڑی طاقت رہی، لیکن گزشتہ چند برسوں کے نتائج میں اس شعبے کی کمزوری صاف دکھائی دے رہی ہے۔

عروج ممتاز کے مطابق بابر اعظم کی کپتانی کے دور میں بیٹنگ کیلئے سازگار اور فلیٹ پچز بنانے کا رجحان بڑھا، جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی پچز سے گھاس ہٹا کر بلے بازوں کیلئے آسان حالات پیدا کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پریکٹس کا سب سے بڑا نقصان فاسٹ بولرز کو ہوا، کیونکہ انہیں مشکل اور تیز گیند بازی کیلئے موزوں حالات میں بولنگ کرنے، وکٹ حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع کم ملے۔

شاہین، نسیم اور حارث کا بھی ذکر

عروج ممتاز نے پاکستان کے اہم فاسٹ بولرز کی کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے شاہین شاہ آفریدی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک وقت میں دنیا کے سب سے باصلاحیت نوجوان فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے تھے، تاہم انجری کے بعد ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

انہوں نے نسیم شاہ کی موجودہ صورتحال اور حارث رؤف کی رفتار میں کمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔

عروج ممتاز کے تبصروں نے پاکستانی کرکٹ میں ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ اگر ملک کو دوبارہ عالمی معیار کے فاسٹ بولرز پیدا کرنے ہیں تو ڈومیسٹک کرکٹ کی پچز اور فرسٹ کلاس نظام میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہوں گی۔

پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر اور دیگر خطرناک فاسٹ بولرز سے بھری پڑی ہے، تاہم موجودہ دور میں اس روایت کو برقرار رکھنا قومی ٹیم کیلئے ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button