کراچی: خاتون سے مبینہ زیادتی کی کوشش، پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) کورنگی صنعتی ایریا تھانے کی پولیس نے اپنے ہی تھانے میں تعینات ایک کانسٹیبل کے خلاف خاتون سے مبینہ زیادتی کی کوشش، دست درازی اور اسلحے کے زور پر دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ 2 ستمبر کو پیش آیا جبکہ متاثرہ خاتون کی جانب سے 9 ستمبر کو مقدمہ نمبر 1144/2026 درج کرایا گیا۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 376، 511 اور 506-B شامل کی گئی ہیں اور مزید تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کردی گئی ہے۔
مدعیہ بی بی شفیدہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ مہران ٹاؤن سیکٹر 6-D کی رہائشی ہیں اور گھر پر سلائی کڑھائی اور مہندی لگانے کا کام کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کانسٹیبل نور اور اس کی اہلیہ سے گزشتہ چار، پانچ برس سے خاندانی تعلقات ہیں اور وہ ان کے گھر آتی جاتی رہی ہیں۔
خاتون کے مطابق 2 ستمبر کی رات نور نے واٹس ایپ کال کے ذریعے بتایا کہ اس کی اہلیہ انہیں کام کے لیے بلا رہی ہیں اور وہ انہیں لینے آرہا ہے۔ مدعیہ کے مطابق رات تقریباً ساڑھے 10 بجے نور موٹر سائیکل پر انہیں گلزار کالونی سیکٹر 8-E میں واقع اپنے گھر لے گیا۔
مدعیہ نے الزام عائد کیا کہ گھر پہنچنے پر اسے محسوس ہوا کہ وہاں کوئی موجود نہیں، اسی دوران نور نے گیٹ بند کرکے مبینہ طور پر اسے زبردستی کمرے میں لے جانے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر مبینہ دست درازی کی گئی، جبکہ فرار ہونے کی کوشش کے دوران اس کا برقعہ بھی پھٹ گیا۔
خاتون کے مطابق گھر سے باہر نکلنے کے بعد نور دوبارہ موٹر سائیکل پر آیا اور پستول دکھا کر اسے گھر چھوڑنے کے بہانے اپنے ساتھ بٹھایا۔ مدعیہ کا الزام ہے کہ راستے میں اسے واقعے کے بارے میں کسی کو بتانے یا پولیس سے رابطہ کرنے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
مدعیہ کے مطابق واقعے کے بعد نور مسلسل واٹس ایپ کالز کے ذریعے اسے خاموش رہنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا، تاہم بعد ازاں اس نے ہمت کرکے پولیس سے رجوع کیا اور قانونی کارروائی کی درخواست کی۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔



