سعودی عرب پر2بڑے ڈرون حملے؟حوثیوں کانجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب کو نشانہ بنانے کادعویٰ

جدہ(جانو ڈاٹ پی کے)یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے نجران میں ایئرپورٹ اور سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کردیا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ دونوں اہداف کو الگ الگ ڈرونز کے ذریعے انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق پہلی کارروائی نجران ایئرپورٹ پر ایک حساس سعودی ہدف کے خلاف کی گئی، جبکہ دوسری کارروائی میں نجران ہی میں آرامکو کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔

حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ دونوں کارروائیوں میں اہداف حاصل کرلیے گئے، تاہم ممکنہ ہلاکتوں، زخمیوں یا مالی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، اس لیے حملوں کے نتیجے میں ممکنہ نقصان کے بارے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔

ایران کا سعودی عرب کو سخت انتباہ

حوثیوں کے حملوں کے دعوے سے کچھ ہی دیر قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی سعودی عرب کو خبردار کیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب یمن کے حوثیوں، جنہیں ایران ’’انصار اللہ‘‘ کہتا ہے، کو قابو نہیں کرسکے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب جتنا زیادہ حملہ کرے گا، اسے اتنے ہی زیادہ اور سخت جوابی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حوثیوں کے سعودی اہداف پر حملوں کے دعوے میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے جازان میں آرامکو کی ایک تنصیب پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اس وقت بھی سعودی حکام یا آرامکو کی جانب سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔

حوثیوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران سعودی اہداف کے خلاف 31 کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں فوجی تنصیبات، توانائی کے مراکز اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے شامل ہیں۔

باب المندب پر بھی خطرے کی گھنٹی

دوسری جانب یمنی حکومت نے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کے قریب اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یمنی حکام کے مطابق حوثی جنوبی سمت میں پیش قدمی کرکے آبنائے باب المندب کے قریب مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ حوثی ذرائع اور یمنی حکومت کے ایک فوجی ترجمان نے بھی حوثیوں کی جانب سے موجودہ علاقوں سے جنوب کی طرف پیش قدمی کی تیاری کا دعویٰ کیا ہے۔

یمنی حکومت کا مؤقف ہے کہ باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی بحری تجارت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔

سعودی سرزمین، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم بحری راستوں کے حوالے سے حوثیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں خطے کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیج، بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہاز رانی سیکیورٹی خدشات سے دوچار ہے۔

تاہم نجران میں حالیہ مبینہ ڈرون حملوں کے حوالے سے حتمی صورتحال سعودی حکام کی باضابطہ تصدیق یا تردید کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

مزید خبریں

Back to top button