سیلاب کاقہر!نارووال سے دیامر تک تباہی،دریا بپھر گئے،سیکڑوں ایکڑفصلیں زیرِ آب

لاہور/اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں، دریاؤں میں پانی کے مسلسل اضافے اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے صورتحال تشویشناک بنا دی۔ نارووال، پھالیہ، سمبڑیال، وزیرآباد، دیامر اور صوابی میں سیلابی پانی نے تباہی مچا دی، متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ متاثر ہوا، سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آگئی جبکہ صوابی میں عمارت گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

نارووال: 20 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع

نارووال کے قصبہ احمد آباد میں سیلابی پانی نے تباہی مچادی۔ سائر باجوہ، نڈالی روڈ سیلابی پانی میں بہہ جانے کے باعث 20 سے زائد دیہات کا شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

متاثرہ علاقوں کے مکین اپنی جان خطرے میں ڈال کر سیلابی پانی عبور کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ فصلوں کے زیر آب آنے سے کسانوں کو شدید مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

دریائے سندھ میں پانی کا دباؤ بڑھ گیا

کالاباغ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ کالاباغ بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 16 ہزار 436 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد پانی کی سطح درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ گئی ہے۔

دریائے چناب کے ہیڈ قادرآباد پر بھی پانی کے بہاؤ میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ یہاں پانی کی آمد 1 لاکھ 46 ہزار 999 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 27 ہزار 474 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

قادرآباد بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب

پھالیہ میں دریائے چناب قادرآباد بیراج پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر عدیل حیدر نے دریائے چناب کے کنارے آباد شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سمبڑیال میں نالہ ایک بپھر گیا، 6 ہزار کیوسک کا ریلا

سمبڑیال میں نالہ ایک متعدد مقامات سے بپھر گیا، جہاں تقریباً 6 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ زرعی رقبہ زیر آب آگیا جبکہ پانی کا بہاؤ 7 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

بھوپالوالہ، ملکھانوالہ اور ڈھلم بلگن میں صورتحال سنگین ہونے لگی ہے اور سیلابی پانی تیزی سے نشیبی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مزید زرعی اراضی زیر آب آنے اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

وزیرآباد: مرالہ، خانکی اور قادرآباد بیراج پر سیلاب

وزیرآباد میں حالیہ بارشوں کے بعد دریائے چناب میں پانی کی سطح دوبارہ بلند ہوگئی ہے۔ مرالہ، خانکی اور قادرآباد بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔

ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد 1 لاکھ 23 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 6 ہزار 477 کیوسک، خانکی بیراج پر آمد 1 لاکھ 31 ہزار 837 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 24 ہزار 279 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

دیامر: گلیشیئر پھٹنے سے سیلابی ریلہ، پل اور مکانات متاثر

دیامر کی تحصیل چلاس کی وادی نیاٹ میں گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلے سے مکانات، فصلوں، درختوں اور رابطہ پلوں کو شدید نقصان پہنچا۔

وادی نیاٹ میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے اور دشوار گزار راستوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ جی بی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی امدادی ٹیمیں متاثرہ وادی کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔

صوابی میں سیلابی صورتحال، 2 افراد جاں بحق

صوابی کی تحصیل رزڑ کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کے باعث طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ریسکیو ٹیموں نے خمزہ ڈھیر، منصب دار، مناگئی، ترکئی، قمرگئی اور ڈھنڈوقہ میں کشتیوں اور لائف جیکٹس کی مدد سے متعدد متاثرہ افراد، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل تھے، کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

ٹوپی کے علاقے آزاد خیل میں عمارت گرنے سے چار افراد ملبے تلے دب گئے، جن میں سے دو کو زندہ نکال لیا گیا جبکہ دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ملک کے مختلف حصوں میں سیلابی صورتحال کے باعث ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رکھا گیا ہے، جبکہ نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو احتیاط اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button