اسرائیل کا شدید ترین دباؤ! معاہدے کے بعد پھر ٹرمپ نے گول پوسٹ تبدیل کر لیا ؟

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)۔ پاک ایران تاریخی سفارتی کوششوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ ڈیل پر رضامندی کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیاسی منظر نامے پر ایک نیا پینترا سامنے آیا ہے۔ سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی لابی اور انتہا پسند ریپبلکنز کے شدید دباؤ کے بعد اب اچانک پچھلے قدموں پر ہٹتے ہوئے اپنے مذاکرات کاروں کو ڈیل میں جلدی نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جس کے بعد پینٹاگون کے زیرِ اثر چلنے والے ادارے ‘ایگزیوس’ کے ذریعے جان بوجھ کر کہانی میں نئے ٹوسٹ شامل کر کے گول پوسٹ تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ معتبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تاریخی ثالثی اور کانفرنس کالز کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے مابین ایک اہم ایم او یو (MoU) پر اصولی اتفاق ہوا تھا، جسے ایران کی فاش سفارتی فتح اور گریٹر اسرائیل منصوبے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا تھا۔ اس معاہدے کے تحت 60 روز کے سیز فائر، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایرانی تیل کی فروخت پر سے امریکی پابندیاں ہٹانے کی موٹی موٹی باتیں طے پائی تھیں، تاہم اب ٹرمپ انتظامیہ ‘ریلیف فار پرفارمنس’ جیسے نئے ہتھکنڈے استعمال کر کے ایران پر دباؤ بڑھانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی پینتروں کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی صورت میزائل ٹیکنالوجی یا اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، جبکہ دوسری جانب عرب ممالک خصوصاً یو اے ای کو بھی اب اندازہ ہو چکا ہے کہ خطے میں جغرافیہ ہی سب سے اہم ہے اور امریکہ ان کا دفاع کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بالادستی کو لگنے والے اس 50 سالہ بڑے دھچکے اور پاکستان کے بطور مستحکم قوت ابھرنے کی مکمل سنسنی خیز اندرونی کہانی جاننے کے لیے دفاعی تجزیہ کار توصیف احمد خان کا یہ تفصیلی وی لاگ مکمل دیکھیں۔




