ڈیپلو اسپتال: عوامی مستقبل یا ذاتی مفادات کی جنگ؟

تحریر: میندھرو کاجھروی

ترقی یافتہ معاشروں کی پہچان صرف بلند و بالا عمارتیں یا بڑے ترقیاتی منصوبے نہیں ہوتے، بلکہ وہ فیصلے ہوتے ہیں جو آنے والی نسلوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ جب منصوبہ بندی میں دور اندیشی، شفافیت اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے تو ترقی پائیدار بنتی ہے، لیکن جب فیصلے ذاتی پسند، سیاسی دباؤ یا محدود مفادات کے تابع ہو جائیں تو اربوں روپے کے منصوبے بھی اپنی افادیت کھو بیٹھتے ہیں۔

ڈیپلو تعلقہ کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے تقریباً اربوں روپے کی لاگت سے جدید اسپتال کی تعمیر یقیناً ایک تاریخی موقع ہے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف عمارت کی تعمیر پر نہیں، بلکہ اس بنیادی سوال پر بھی ہے کہ اسپتال کہاں تعمیر کیا جائے تاکہ وہ آج کے ساتھ ساتھ آنے والے کئی عشروں کی ضروریات پوری کر سکے۔

موجودہ اسپتال محدود رقبے پر قائم ہے، جبکہ آبادی، مریضوں کی تعداد اور طبی سہولیات کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر نئی عمارت بھی اسی محدود جگہ پر تعمیر کر دی گئی تو مستقبل میں نئے شعبوں، جدید طبی آلات، پارکنگ، ایمبولینس کی آمدورفت، ڈاکٹروں کی رہائش اور اسپتال کی توسیع کے لیے جگہ کہاں سے آئے گی؟ کیا آج کا فیصلہ صرف موجودہ حالات کے مطابق کیا جا رہا ہے یا آئندہ پچاس سے سو برس کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے؟

ایک جدید اسپتال محض اینٹوں اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا مربوط نظام ہوتا ہے جہاں ایمرجنسی، ٹراما سینٹر، آپریشن تھیٹر، لیبارٹریاں، خصوصی وارڈز، ڈائیلاسز، امراضِ قلب، زچہ و بچہ کی سہولیات اور مستقبل میں مزید توسیع کی گنجائش لازمی سمجھی جاتی ہے۔ اگر منصوبہ بندی ہی محدود ہو تو آنے والے وقت میں مسائل دوبارہ جنم لیں گے۔

ڈیپلو اسپتال ماضی میں بھی مختلف انتظامی مسائل، ڈاکٹروں کی غیر حاضری، ادویات کی قلت اور دیگر بے ضابطگیوں کے باعث عوامی تنقید کی زد میں رہا ہے۔ اس لیے صرف نئی عمارت تعمیر کرنا کافی نہیں، بلکہ ایک ایسا مؤثر نظام بھی درکار ہے جو شفافیت، احتساب، معیاری طبی خدمات اور عوامی اعتماد کو یقینی بنا سکے۔

اگر متعلقہ اداروں یا تکنیکی ماہرین نے کسی متبادل مقام کی سفارش کی تھی تو عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ شفاف فیصلے اعتماد پیدا کرتے ہیں، جبکہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلے سوالات اور خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ اربوں روپے کے اس منصوبے میں کون سا فیصلہ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔

یہ معاملہ کسی ایک فرد، کسی ایک ادارے یا کسی ایک گروہ کا نہیں، بلکہ لاکھوں شہریوں کی صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ حکومت، محکمۂ صحت، ضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندے، انجینئرز، طبی ماہرین اور مقامی آبادی باہمی مشاورت سے ایسا فیصلہ کریں جو وقتی نہیں بلکہ دیرپا عوامی مفاد کا ضامن ہو۔

آج لیا جانے والا فیصلہ آنے والی کئی دہائیوں تک اپنی چھاپ چھوڑے گا۔ اگر منصوبہ بندی درست ہوئی تو یہ اسپتال ترقی، دور اندیشی اور عوامی خدمت کی علامت بنے گا، لیکن اگر جلد بازی یا محدود مفادات کو ترجیح دی گئی تو آنے والی نسلیں اس کی قیمت ادا کریں گی۔

عوام کا پیسہ، عوام کا حق اور عوام کا مستقبل کسی بھی ذاتی یا سیاسی مفاد سے زیادہ اہم ہے۔ یہی وقت ہے کہ ڈیپلو کے لیے ایسا فیصلہ کیا جائے جسے آنے والی نسلیں دانشمندانہ منصوبہ بندی اور حقیقی عوامی خدمت کی مثال کے طور پر یاد رکھیں۔

مزید خبریں

Back to top button