دیوی کی لکڑی کا تنازع: تھر کے امن کے لیے ایک نیا امتحان

تحریر: میندھرو کاجھروی
تھر کی شناخت صدیوں سے امن، رواداری، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی سے رہی ہے، لیکن جب کسی قدرتی وسیلے یا کاروبار سے بڑے معاشی مفادات وابستہ ہو جائیں تو تنازعات کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ تعلقہ ڈیپلو میں دیوی کی لکڑی سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی اب ایسی ہی صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہے، جس پر سنجیدہ غور و فکر اور فوری انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے ڈیپلو اور اس کے نواحی علاقوں میں دیوی کی لکڑی کے کاروبار سے متعلق اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ حال ہی میں سری گاؤں میں پیش آنے والے ایک جھگڑے کے دوران فائرنگ اور کلہاڑیوں کے استعمال کی اطلاعات نہ صرف مقامی امن کے لیے تشویش کا باعث ہیں بلکہ یہ سوال بھی پیدا کرتی ہیں کہ آخر ایک کاروباری معاملہ اس قدر حساس کیوں ہو گیا ہے کہ لوگ قانون کے بجائے طاقت کا راستہ اختیار کرنے لگے ہیں۔
دیوی کی لکڑی اب صرف کھیتوں سے حاصل ہونے والی لکڑی نہیں رہی بلکہ ایک ایسا کاروبار بن چکی ہے جس سے بڑے مالی مفادات وابستہ ہیں۔ جہاں لاکھوں اور کروڑوں روپے کا لین دین ہو، وہاں اگر واضح پالیسی، مؤثر نگرانی اور مضبوط قانونی نظام موجود نہ ہو تو اختلافات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔
ماضی میں بھی بعض سماجی اور سیاسی حلقوں نے دیوی کی لکڑی کے معاملے پر حکومت اور انتظامیہ کی توجہ مبذول کرائی تھی، مگر اس وقت کئی لوگوں نے اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھنے کے بجائے اسے ایک معمولی معاملہ قرار دیا۔ آج جب اسی مسئلے پر برادریوں کے درمیان جھگڑے اور زخمی ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اگر بروقت سنجیدگی سے توجہ دی جاتی تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔
یہاں سوال کسی ایک فریق کی حمایت یا مخالفت کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ تھر میں کسی بھی معاشی سرگرمی کو اس انداز میں کیسے منظم کیا جائے کہ مقامی لوگوں کے حقوق بھی محفوظ رہیں اور امن و امان بھی برقرار رہے۔
حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ دیوی کی لکڑی کے حوالے سے مکمل سروے کرائے، اس کی کٹائی، خرید و فروخت کے لیے واضح ضابطے مرتب کرے، اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے مستقل نظام قائم کرے۔ اگر کوئی فرد یا گروہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
تھر کے لوگ پہلے ہی پانی، روزگار اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر نئے تنازعات جنم لیتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ بااثر شخصیات، سیاسی رہنما، سماجی رہنما اور انتظامیہ سب مل کر ایسا راستہ اختیار کریں جہاں کاروبار بھی فروغ پائے، روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں اور انسانی جانوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔
دیوی کی لکڑی اگر قانون اور انصاف کے دائرے میں رہے تو یہ تھر کے لیے ایک اہم معاشی موقع بن سکتی ہے، لیکن اگر اسے طاقت اور تصادم کا ذریعہ بنا دیا گیا تو یہ تھر کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اب فیصلہ تھر کی ذمہ دار قیادت اور متعلقہ اداروں کو کرنا ہے کہ وہ اس معاملے کو صرف منافع بخش کاروبار سمجھتے ہیں یا اسے خطے کے مستقبل کے امن کے لیے ایک اہم امتحان تصور کرتے ہیں۔



