ٹرمپ کا ایران پر نئی فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھنے کا اعلان

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے\مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے کو فی الحال کم شدت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے تہران کے خلاف کسی نئے بڑے فوجی آپریشن کی دھمکی نہیں دی جا رہی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اس وقت صرف ’’نیم مذاکرات‘‘ جاری ہیں، تاہم واشنگٹن ایران کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے، جہاں مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے اور ملک کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اپنی فوجی اہلکاروں کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی خاطر خواہ رقم موجود نہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کے معاشی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے، تاہم واشنگٹن فی الحال نئی فوجی کارروائی کے بجائے ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے اور اسے مزید بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ دونوں ممالک اس وقت ’’کھیل کے درمیان‘‘ میں ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بالآخر صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران معاملے کو فی الحال محتاط انداز میں آگے بڑھا رہا ہے اور واشنگٹن تمام ممکنہ پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 75 ڈالر سے کچھ زیادہ ہونے کے باعث امریکی صارفین پر جنگ کے حوالے سے دباؤ نسبتاً کم ہے، تاہم ایران کے معاملے میں امریکا اپنے معاشی اور سفارتی دباؤ کو برقرار رکھے گا۔



