مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی تیل منڈی میں سپلائی خدشات بڑھ گئے

نیویارک (ویب ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور اہم بحری راستوں پر حملوں کے باعث عالمی تیل منڈی میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں رواں ہفتے 8 فیصد سے زائد اضافے کی جانب گامزن ہیں، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔

رپورٹس کے مطابق جمعے کو برینٹ خام تیل کی قیمت 3.02 ڈالر کمی کے بعد 104.61 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 2.43 ڈالر کمی کے بعد 100.05 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔ اگرچہ کاروباری ہفتے کے آخری روز دونوں بینچ مارکس کی قیمتوں میں کمی ہوئی، تاہم رواں ہفتے اب تک برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں میں 8 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دورانِ کاروبار خام تیل کی دونوں اقسام کی قیمتیں مئی کے وسط کے بعد بلند ترین سطح پر بھی پہنچیں۔ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق عارضی انتظام پر ممکنہ پیش رفت کی خبروں کے باعث جمعے کو قیمتوں پر کچھ دباؤ کم ہوا، تاہم عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے قریب سیٹلائٹ تصاویر میں دھویں کے مناظر سامنے آنے کے بعد تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر سعودی خام تیل کو برآمدی مراکز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق حملوں کے باعث سعودی عرب کی خام تیل کی سپلائی اگست میں ماہانہ بنیاد پر 23 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوکر 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔

عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم آبنائے ہرمز میں بھی بحری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ابتدائی شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جمعرات کو آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد 11 سے کم ہوکر 7 رہ گئی۔

اسی دوران یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے باب المندب کے قریب جزیرہ پریم تک پہنچنے کی اطلاعات نے بھی عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔

ادھر روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات امریکی ایندھن مارکیٹ پر بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ قیمتوں کے ٹریکر گیس بڈی کے مطابق امریکا میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں بحری نقل و حمل کی مشکلات اور روسی ریفائننگ میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو ڈیزل سمیت ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خام تیل کے مقابلے میں مزید تیزی آسکتی ہے۔

جرمن بینک کومرز بینک نے سال کے اختتام کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 75 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جبکہ ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں کے اندازوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈی میں آئندہ دنوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

مزید خبریں

Back to top button