بدین کی نہروں کے آخری سروں میں ریت اڑنے لگی،پانی کی قلت پیدا ہوگئی

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)بدین کی نہروں کے آخری سروں (ٹیلوں) میں ریت اڑنے لگی، پانی کی بدترین قلت کے خلاف مکینوں کا احتجاج تفصیلات کے مطابق بدین کے ساحلی علاقوں کی نہروں اور کڑھن سب ڈویژن کی علی واہ اور شیر واہ کے آخری سروں تک پانی نہ پہنچنے کے باعث زرخیز زمینیں بنجر بنتی جا رہی ہیں۔ فصلیں سوکھ کر تباہ و برباد ہو رہی ہیں جبکہ نہروں کے آخری علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد پینے کے پانی کے لیے دربدر ہو گئے ہیں

مقامی لوگوں نے پانی کی قلت، فصلوں کی تباہی اور کروڑوں روپے کے نقصان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور دھرنے دیے۔ اس سلسلے میں مقامی آبادگار رہنماؤں عبدالغفور چانڈیو، مہران ملاح، خالق ڈنو شاہ، گل محمد گرگیز اور دیگر نے کہا کہ پانی کی شدید کمی کے باعث بدین کی نہروں کے آخری حصوں میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ ہزاروں ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں جبکہ لوگوں کو پینے کا پانی بھی میسر نہیں۔ زیرِ زمین پانی بھی کھارا ہے، جس کے باعث خواتین اور بچے دور دراز ہینڈ پمپوں سے پانی بھرنے پر مجبور ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں پیاسے مویشی بھی پانی نہ ملنے کے باعث پریشان ہیں، جبکہ پیاس اور خشک سالی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہر سال بدین کے ساحلی علاقوں کی نہروں کے آخری حصوں میں پانی کی قلت کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہو جاتی ہے، مگر وفاقی اور سندھ حکومتیں اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتیں۔ نہ پانی فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ہی یہاں صنعتیں یا روزگار کے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ بدین کے ساحلی علاقوں کی نہروں کے آخری حصوں تک پانی پہنچایا جائے اور مقامی رہائشیوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button