ٹرمپ انتظامیہ کا عالمی فوجداری عدالت پر مزید پابندیوں کا فیصلہ، اعلان جلد متوقع

واشنگٹن(ویب ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف مزید سخت اقدامات کی تیاری مکمل کرلی ہے، جس کے تحت پوری عدالت اور اس سے تعاون کرنے والے اداروں کو پابندیوں کا نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔
دو باخبر ذرائع کے مطابق پابندیوں کی تیاری مکمل ہوچکی ہے تاہم ان کے اعلان کے حتمی وقت کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ امریکی اقدام سے آئی سی سی کے خلاف واشنگٹن کے دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ پابندیوں کے تحت امریکی شہریوں اور اداروں کے لیے آئی سی سی کے ساتھ مالی معاملات پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جبکہ عدالت کی مختلف سرگرمیوں اور اس سے تعاون کرنے والے اداروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی آئی سی سی کے بعض ججز اور پراسیکیوٹرز کے خلاف پابندیاں عائد کرچکی ہے اور عدالت کے اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ امریکی حکام آئی سی سی سے اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹس واپس لینے کے علاوہ افغانستان میں امریکی فوجیوں سے متعلق سابقہ تحقیقات ختم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئی پابندیوں کا اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس کے دوران یا اس کے بعد کیے جانے کا امکان ہے۔



