دھرنےسے مسئلہ نہیں،دہشتگردی اصل ایشو ہے،محسن نقوی

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت کو دھرنے سے کوئی مسئلہ نہیں، اصل ایشو دہشت گردی ہے، پیپلز پارٹی کی جانب سے دھرنا مؤخر کرنے کی شرط رکھی گئی تھی، حکومت نے کبھی دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے باعث مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کرنا پڑا۔

وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، محسن نقوی اور عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور سیاسی مذاکرات سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کو استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی کا اعلان کیا، تاہم کن حالات میں یہ فیصلہ کرنا پڑا، اس حوالے سے وزیر داخلہ تفصیلات بتائیں گے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل کوشش کی کہ خیبر پختونخوا حکومت کو اعتماد میں لیا جائے۔ لانگ مارچ کے معاملے پر پس پردہ رابطے جاری تھے اور وزیراعظم کی بیرون ملک روانگی سے قبل اپوزیشن سے ملاقات اور ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی ہوا تھا، تاہم اس حوالے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں متعدد مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں، لیکن جب معاملات حتمی شکل اختیار کرنے لگے تو ایک نیا ڈرافٹ سامنے آگیا۔ محسن نقوی کے مطابق گزشتہ رات پونے 12 بجے تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ رہا اور انہیں بتایا گیا کہ اب بھی معاملات طے ہو سکتے ہیں، تاہم دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم سے ملاقات بھی ہوئی، جبکہ حکومت پی ٹی آئی سے مسلسل رابطے میں تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا بنیادی مسئلہ دھرنا نہیں بلکہ دہشت گردی ہے اور پی ٹی آئی اپنی مرضی سے دھرنا دینا چاہتی ہے تو دے سکتی ہے، حکومت کی توجہ انسداد دہشت گردی پر مرکوز ہے۔

محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کی صورتحال کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اضلاع میں لوگ شام کے وقت گھروں سے باہر نکلنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حال ہی میں الیکشن کمیشن کے ایک افسر کی موت بھی ہوئی۔ سہیل آفریدی سے ہونے والی ملاقاتوں میں دہشت گردی کا معاملہ زیر بحث آتا رہا اور پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بعض علاقوں میں وسائل کی کمی کا معاملہ اٹھایا تو وفاقی حکومت نے مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ محسن نقوی کے بقول مذاکرات کے دوران متعلقہ اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اکیلے نہیں لڑی جا سکتی بلکہ تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہ ممکن نہیں کہ سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں قربان کرتے رہیں اور صوبائی حکومت اس معاملے کی ذمہ داری قبول نہ کرے۔

محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 518 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گورنر راج کے فیصلے سے پہلے ہر ممکن کوشش کی کہ صورتحال کو سنبھالا جا سکے، لیکن مذاکرات کے باوجود معاملات طے نہ ہونے پر یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔

مزید خبریں

Back to top button