بھارت میں انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، دہلی میں کریک ڈاؤن اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مبینہ انتخابی دھاندلی اور ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے تنازع پر احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے باعث نئی دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی، اجتماعات پر پابندیاں عائد کی گئیں اور متعدد سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ووٹر فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام حذف کیے جانے کے معاملے نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر انتخابی عمل میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی کے جنتر منتر اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ دفعہ 163 کے نفاذ اور اجتماعات پر پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی بڑھانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے، پارٹی رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بعض صحافیوں، ماہرِ معاشیات ژاں دریژ، سابق وزیراعلیٰ پنارائی وجین اور ارکانِ پارلیمان کی گرفتاریوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم گرفتاریوں کی مکمل تفصیلات اور ان افراد کی موجودہ قانونی حیثیت کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ احتجاج کے باعث میٹرو سروس، انٹرنیٹ اور ریل گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ ان پابندیوں اور مبینہ گرفتاریوں پر انسانی حقوق کے حلقوں کی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے غیرقانونی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کی فوری اور غیرمشروط رہائی کے مطالبے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان بیانات کی اصل اور تازہ ترین تفصیلات کی تصدیق بھی ضروری ہے۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق احتجاجی قیادت نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کے تنازع کے حل تک مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں نے بھی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے انتخابی عمل میں شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیری رہنماؤں نے دہلی میں مبینہ پابندیوں اور گرفتاریوں پر ردعمل دیتے ہوئے موجودہ صورتحال کو 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں نافذ پابندیوں سے تشبیہ دی ہے۔ اس تنازع نے بھارت میں انتخابی شفافیت، سیاسی اختلاف رائے اور شہری آزادیوں سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
نوٹ: اس خبر میں احتجاج، گرفتاریوں، ووٹر فہرستوں سے نام حذف ہونے اور بین الاقوامی اداروں کے ردعمل سے متعلق متعدد غیرمعمولی دعوے شامل ہیں۔ اشاعت سے قبل ان کی معتبر اور آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔



