سندھ میں 838 سکولوں کی تعمیر و بحالی، اڑھائی لاکھ بچوں کیلئے تعلیمی مواقع پیدا ہوں گے

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں نئے سکولوں کو محض عمارتیں نہیں بلکہ تعلیم، خواندگی اور سماجی ترقی کے مراکز بنایا جائے گا، کسی بچے کو تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں تعلیمی منصوبوں سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں صوبے میں زیر تعمیر اور تعمیر نو کے مراحل سے گزرنے والے سکولوں کو فعال بنانے اور باقاعدہ داخلہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے سندھ بھر میں 838 سکول تعمیر، اپ گریڈ یا بحال کیے جا رہے ہیں۔ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ سکولوں کی تکمیل سے قبل ضلع وار داخلہ منصوبے تیار کیے جائیں جبکہ مقامی نمائندوں، عمائدین اور والدین کو بھی داخلہ مہم میں شامل کیا جائے۔
حکام کے مطابق نئے سکولوں کے ذریعے تقریباً اڑھائی لاکھ بچوں کے لیے تعلیمی مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 2 لاکھ 21 ہزار سے زائد بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 116 نئے سیکنڈری سکولوں میں سے 64 دسمبر 2026 تک جبکہ باقی 52 جون 2027 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔ سیلاب بحالی پروگرام کے تحت مزید 722 سکول بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ہر مکمل ہونے والا سکول پہلے ہی تعلیمی سال سے فعال ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکولوں میں داخلہ، حاضری، طلبہ کے برقرار رہنے اور تعلیمی نتائج کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں تاکہ منصوبوں کے حقیقی نتائج سامنے آسکیں۔



