دبئی میں اسرائیلی ‘آئرن ڈوم’ تعینات:شارجہ نے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا؟

دبئی: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات (UAE) کے حوالے سے دو بڑی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ پہلی خبر کے مطابق، متحدہ عرب امارات کی تیسری بڑی ریاست شارجہ کے حکمران خاندان کے ابوظہبی کے ساتھ شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور شارجہ 1971 سے قبل کی اپنی آزاد ریاست کی حیثیت بحال کر کے فیڈریشن سے الگ ہونے پر غور کر رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شارجہ میں نافذ سخت اسلامی قوانین اور اسرائیل نواز پالیسیوں پر تحفظات کو اس علیحدگی کی بنیاد بتایا جا رہا ہے، تاہم دفاعی ماہرین اسے محض ‘پروپیگنڈا وارفیئر’ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، ایک سنسنی خیز انکشاف میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل نے خفیہ طور پر اپنا جدید ترین فضائی دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ (Iron Dome) متحدہ عرب امارات میں تعینات کیا۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد اسرائیلی فوج کی درجنوں بیٹریز اور آپریٹرز کو خفیہ طور پر دبئی اور دیگر حساس مقامات پر منتقل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نظام نے ایران کی جانب سے کیے گئے سینکڑوں ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان اس بڑھتے ہوئے فوجی تعاون اور شارجہ کی علیحدگی کی خبروں کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے معظم فخر کا تازہ ترین تجزیہ دیکھیں، ویڈیو لنک نیچے موجود ہے۔




