عدالتی محاذ پر بڑی سرجری:وزیراعظم کی طلبی کا اندیشہ!

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) وفاقی دارالحکومت کے عدالتی حلقوں میں اس وقت زلزلہ آگیا جب جوڈیشل کمیشن کے اہم اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج محسن اختر کیانی کے تبادلے کا بڑا فیصلہ سنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق کمیشن کے نو ارکان نے اکثریت کے ساتھ جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائی کورٹ منتقل کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے، جہاں وہ اپنی موجودہ سینیارٹی کھو کر جونیئر ججز کی فہرست میں بارہویں نمبر پر چلے جائیں گے۔ قانونی ماہرین اس غیر معمولی فیصلے کو جج کی علامتی "ڈیموشن” اور عدالتی محاذ پر ایک بڑی سرجری قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب جسٹس بابر ستار کے حوالے سے بھی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی موجودگی میں اہم مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔ جسٹس بابر ستار نے اس صورتحال میں چیف جسٹس کو خط لکھ کر جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت مانگی ہے، تاہم ان کے پاس سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کا سامنا کرنے یا گھر جانے کے سوا کوئی تیسرا آپشن نظر نہیں آرہا۔
عدالتی محاذ پر جاری اس کشمکش کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے پی ٹی اے ٹریبیونل میں ممبر فائنانس کی تعیناتی کے کیس میں وفاقی حکومت کو کڑی تنبیہ جاری کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کی طلبی کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر 18 مئی تک مطلوبہ تقرری نہ ہوئی تو وزیراعظم پاکستان کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، جس نے عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تبادلے اور سخت عدالتی احکامات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب مقتدر حلقے اور عدلیہ کے بعض حصے آمنے سامنے ہیں اور بند کمرہ ملاقاتوں میں ہونے والے فیصلے اب کھلے عام اثر دکھا رہے ہیں۔ ان عدالتی تبدیلیوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے مستقبل کے فیصلوں پر بڑے سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید اہم ججز کے تبادلوں یا ان کے خلاف ریفرنسز کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
صحافی شکیل ملک کا یہ وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:




