پنجاب میں کم عمری کی شادی پر پابندی کا قانون منظور، 26 اپریل عدلیہ کا سیاہ دن!

​لاہور: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) پنجاب اسمبلی نے ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے کم عمری کی شادیوں کے خلاف سخت قانون منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کروانے والے نکاح خواں اور والدین کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر کوئی پنجاب سے بچوں کو لے جا کر کسی دوسرے صوبے میں شادی کرے گا، تو اسے 7 سے 10 سال تک کی قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تجزیہ نگاروں نے اس قانون کو مریم نواز کی حکومت کی بہترین قانون سازی قرار دیا ہے، جس کا مقصد زچہ و بچہ کی صحت کی حفاظت اور سماجی مسائل کا خاتمہ ہے۔

​دوسری جانب، آج 26 اپریل کو پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ کے ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی دن ہے جب 2012 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کے کیس میں نااہل قرار دیا تھا۔ جہاں افتخار چوہدری کا دورِ عدل متنازع فیصلوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، وہیں یوسف رضا گیلانی آج بھی چیئرمین سینیٹ کے طور پر سیاسی منظر نامے پر موجود ہیں، جو ان کی سیاسی ثابت قدمی کا ثبوت ہے۔

​مزید برآں، جیل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بشریٰ بی بی کی آنکھ کا معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ علیمہ خان اور دیگر بہنیں کارکنوں کے احتجاج کا انتظار کر رہی ہیں لیکن تاحال وہاں عوامی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے گوہر بٹ کا وی لاگ ملاحظہ فرمائیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button