امارات کا گروپ سے علیحدگی کا اعلان اوپیک کیلئے بڑا دھچکا ہے، رائٹرز

لندن(جانوڈاٹ پی کے)برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہےکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اوپیک اور اوپیک پلس گروپ سے نکلنےکا فیصلہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کےگروپ کے لیے بڑا دھچکا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات 60 برسوں سے زیادہ عرصے سے اوپیک کا رکن تھا، ایسے وقت میں جب پہلے ہی ایران جنگ کے باعث عالمی اقتصادیات بدترین حالت میں ہے، امارات کا نکلنا گروپ کو کمزور کردے گا ۔
رائٹرز کے مطابق اوپیک عموماً اندرونی اختلافات کے باوجود اتحاد کا تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ تاہم ایران جنگ کی وجہ سے عالمی توانائی بحران پیدا ہو چکا ہے اور خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر یو اے ای کا سعودی عرب کے ساتھ اختلاف مزید واضح ہو گیا ہے، جو اوپیک کا اصل رہنما سمجھا جاتا ہے۔
اماراتی وزیر توانائی سہیل محمد المزوری کے مطابق یہ پالیسی فیصلہ خطے کی توانائی ترجیحات، تیل پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا بھر میں اپنے صارفین اور شراکت داروں کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو قابل اعتماد اور ذمہ دارانہ انداز میں پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور مزید فراہمی کی خواہش رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای کا یہ قدم مستقبل میں اسے عالمی مارکیٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے کیونکہ جب خلیج کے راستے دوبارہ کھلیں گے تو وہ اپنی مرضی سے تیل کی پیداوار بڑھاسکے گا، کیونکہ اب وہ اوپیک کے کوٹہ سسٹم کا پابند نہیں رہے گا۔
رائٹرز نے لکھا ہے کہ یو اے ای کے اوپیک سے نکلنے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے طور پر دیکھا جائےگا، جو اوپیک پر مہنگا تیل بیچنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ امریکا اوپیک کے رکن ملکوں کی حفاظت کرتا ہے، بدلے میں اوپیک ممالک تیل کی قیمتیں بڑھا کر ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق یو اے ای کو ساتھی عرب ملکوں سے شکایت ہےکہ انہوں نے جنگ کے دوران اسے ایرانی حملوں سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔



