بھارت میں11ہزار میگاواٹ کے ڈیم منصوبے کے خلاف احتجاج پُرتشدد ہوگیا،پولیس سے جھڑپیں، متعدد افراد زخمی

اروناچل پردیش (جانو ڈاٹ پی کے)بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں مجوزہ سیانگ اپر ملٹی پرپز پروجیکٹ کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے۔ 23 اکتوبر کو سیانگ، اپر سیانگ اور ایسٹ سیانگ اضلاع میں 12 گھنٹے کی ہڑتال کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مقامی تنظیمیں تقریباً 11 ہزار 200 میگاواٹ کے مجوزہ منصوبے کے ابتدائی سروے اور فزیبلٹی جائزے روکنے، گرفتار کارکنوں کی رہائی اور علاقے سے نیم فوجی دستے واپس بلانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
مظاہرین کو خدشہ ہے کہ منصوبے سے مقامی آبادی کی زمین، روزگار، ماحول اور روایتی طرزِ زندگی متاثر ہوسکتا ہے۔ حکام کے مطابق ڈائٹ ڈائم کے مقام پر تقریباً 150 سے 200 مظاہرین نے پولیس رکاوٹیں توڑنے اور اہلکاروں پر پتھراؤ کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ ایسٹ سیانگ میں بھی جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کم از کم سات گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
احتجاج کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی، جب پاسِگھاٹ میں نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) کے دفتر کو آگ لگا دی گئی۔ ایک پولیس اسٹیشن کے قریب کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور بعض سیاسی رہنماؤں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
واقعات کے بعد انتظامیہ نے بعض علاقوں میں اجتماعات پر پابندیاں عائد کردیں۔ منصوبے کے خلاف مقامی آبادی کے تحفظات اور احتجاج نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔



