’مجھے یقین نہیں تھا زندہ بچوں گا‘، فلائی دبئی طیارے میں زخمی انڈین پائلٹ کا انکشاف

ابوظہبی (ویب ڈیسک) دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے کپتان نے انکشاف کیا ہے کہ دورانِ پرواز ان کے معاون پائلٹ نے کلہاڑی سے حملہ کیا تو انہیں اپنی جان بچنے کی امید نہیں رہی تھی۔ کپتان نے سر پر ہونے والے وار بازو سے روکنے کی کوشش کی اور مدد کے لیے پکارتے رہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی شہری کپتان سمت مچھر نے ابوظبی کے ایک اسپتال میں اخبار ’دی نیشنل‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ حملے کے ابتدائی لمحوں میں انہیں محسوس ہوا کہ شاید طیارے کے ڈھانچے میں کوئی سنگین خرابی پیدا ہوگئی ہے، تاہم جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ معاون پائلٹ ان پر حملہ کر رہا ہے۔
کپتان کے مطابق انہوں نے فوری طور پر اپنی سیٹ بیلٹ کھولنے کی کوشش کی اور خود کو بچانے کے لیے کلہاڑی کے وار روکتے رہے۔ حملہ آور مسلسل ان کے سر کو نشانہ بنا رہا تھا، جس کے دوران دفاع کرتے ہوئے ان کا بازو بھی زخمی ہوگیا۔ انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور ساتھیوں کو مدد کے لیے پکارتے رہے، تاہم اسی دوران وہ بے ہوش ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت فلائی دبئی کا طیارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز صرف 30 سیکنڈ کے دوران تقریباً 16 ہزار فٹ نیچے آ گیا۔ بعد ازاں طیارے میں موجود دیگر دو پائلٹس اور عملے نے حملہ آور پر قابو پایا اور جہاز کو سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا۔
متحدہ عرب امارات کے استغاثہ کے مطابق معاون پائلٹ مبینہ طور پر طیارے کو اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ سے ٹکرانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مبینہ منصوبہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے متاثر تھا۔ ملزم عمان کا شہری بتایا گیا ہے، جسے بعد میں متحدہ عرب امارات منتقل کردیا گیا۔
کپتان سمت مچھر نے بتایا کہ طیارے کی ناک کو تیزی سے نیچے کی جانب جاتے دیکھنا ان کی زندگی کا سب سے خوفناک لمحہ تھا۔ ان کے مطابق اس وقت انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ زندہ بچ سکیں گے یا نہیں، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔



