متعدد قتل کے مجرموں کی عمر قید کی سزائیں بیک وقت چلیں گی یا الگ الگ؟ سپریم کورٹ میں اہم سماعت، فیصلہ 10 نومبر کو متوقع

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) سپریم کورٹ کے 7 رکنی لارجر بینچ میں متعدد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزاؤں کے بیک وقت یا یکے بعد دیگرے نفاذ اور عمر قید کی حقیقی مدت سے متعلق اہم قانونی سوالات پر سماعت جاری رہی۔ پنجاب حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں حالات کے مطابق سزائیں یکے بعد دیگرے نافذ کی جانی چاہئیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا لارجر بینچ دو بنیادی قانونی سوالات کا جائزہ لے رہا ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ایک سے زائد قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزائیں بیک وقت چلیں گی یا یکے بعد دیگرے نافذ ہوں گی، جبکہ دوسرا سوال پاکستان میں عمر قید کی قانونی اور عملی مدت سے متعلق ہے۔
پنجاب حکومت نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل طارق صدیق کے ذریعے عدالت میں تحریری جواب جمع کرایا، جس میں کہا گیا ہے کہ ہر مقدمے میں سزاؤں کو یکے بعد دیگرے چلانے کا حکم نہیں دیا جانا چاہیے، بلکہ غیر معمولی اور سنگین نوعیت کے مقدمات میں واضح وجوہات کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
پنجاب پراسیکیوشن کے مطابق قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں، بالخصوص جہاں متعدد انسانی جانیں ضائع ہوئی ہوں یا عوامی ضمیر مجروح ہوا ہو، سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے سے فوجداری نظام انصاف پر عوام کا اعتماد مضبوط ہو سکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے سزا کے تادیبی اور عبرت ناک مقاصد بھی پورے ہوں گے۔
عمر قید کی مدت سے متعلق مؤقف
تحریری جواب میں پنجاب پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ معافیوں اور سزاؤں میں تخفیف کو شمار کرنے کے بعد عمر قید کی عملی مدت بعض صورتوں میں 15 سال رہ جاتی ہے، جبکہ قانون میں عمر قید کو 25 سال کے برابر شمار کرنے کا تصور بھی موجود ہے۔
پنجاب حکومت کے مطابق متعدد افراد کے قتل میں ملوث مجرم کو محض اس بنیاد پر رہائی کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے کہ مختلف سزاؤں کو بیک وقت چلانے کے باعث اس کی قید کی مدت محدود ہو جائے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ اگر متعدد قتل کی سزائیں ایک ہی مدت میں ضم کر دی جائیں تو اس سے ایک قتل اور متعدد قتل کے درمیان قانونی فرق کم ہونے کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ جب متعدد انسانی جانیں لی گئی ہوں تو ہر جرم کی سنگینی کے مطابق سزا کا تعین ہونا چاہیے اور مختلف سزاؤں کو یکجا کرنے سے اضافی جرائم کی سنگینی نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے۔
قانونی ترامیم اور سزاؤں کے مقاصد
تحریری جواب میں کرمنل لاز (ترمیمی) ایکٹ 2021 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جو یکم دسمبر 2021 کو نافذ ہوا تھا۔ پنجاب پراسیکیوشن کے مطابق اس قانون کے ذریعے تعزیرات پاکستان کی دفعات 375-A اور 376 میں ایسی سزا کا تصور شامل کیا گیا جس کے تحت بعض جرائم میں مجرم کی باقی ماندہ طبعی زندگی تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
جواب میں پنجاب سزائیں ایکٹ 2019 کی دفعہ 4 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سزا کے بنیادی مقاصد میں مجرم کو سزا دینا، جرائم کی روک تھام، اصلاح و بحالی، عوام کا تحفظ اور عبرت کے ذریعے جرائم کی حوصلہ شکنی شامل ہیں۔
پراسیکیوشن نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور انسداد منشیات ایکٹ 1997 میں سزاؤں میں معافی سے متعلق پابندیوں کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ سنگین جرائم کے لیے قانون میں خصوصی اقدامات کی گنجائش موجود ہے۔
شاہ حسین کیس کے فیصلے پر اعتراض
پنجاب پراسیکیوشن نے اپنے تحریری جواب میں شاہ حسین کیس کے پیراگراف 40 پر اعتراض کرتے ہوئے اسے خلاف قانون قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ جواب کے مطابق اس پیراگراف میں بشیر کیس میں طے کیے گئے قانونی اصول کو نظرانداز کیا گیا۔
پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ اگر عمر قید سے مراد ہر صورت مجرم کی باقی ماندہ پوری زندگی تک قید ہوتی تو متعدد عمر قید کی سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے کے سوال کی نوعیت مختلف ہوتی۔ جواب میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ انتظامیہ کے سزاؤں میں تخفیف یا معافی دینے کے اختیار کو تسلیم کر چکی ہے، تاہم حکومت کے مطابق ان رعایتوں کے باعث عمر قید کی مؤثر مدت بعض صورتوں میں 15 سال تک رہ جاتی ہے۔
متعدد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی مدت اور سزاؤں کے نفاذ سے متعلق کیس کی آئندہ سماعت 10 نومبر کو ہوگی۔ حتمی قانونی تشریح اور اس کے اطلاق کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔



