ٹنڈوباگو میں مہمان پرندوں کا غیر قانونی شکار اور کاروبار جاری، محکمہ گیم پر مبینہ سرپرستی کے الزامات

ٹنڈوباگو(محمد سلیم میمن \جانوڈاٹ پی کے) ٹنڈوباگو اور گردونواح میں سائبیریا سے آنے والے مہمان پرندوں کے غیر قانونی شکار اور سرِعام خرید و فروخت کا مبینہ سلسلہ جاری ہے، جس سے جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق مہمان پرندوں کی آمد کے ساتھ ہی شکاری سرگرم ہوگئے ہیں، جبکہ پرندوں کے شکار اور ان کی خرید و فروخت کے واقعات نے محکمہ وائلڈ لائف اور گیم ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
علاقے میں یہ الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ متعلقہ محکمے کی مبینہ چشم پوشی یا سرپرستی کے باعث ہزاروں میل کا سفر کرکے آنے والے مہمان پرندوں کا بے دریغ شکار کیا جا رہا ہے اور ان کی فروخت بھی کھلے عام جاری ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
شہریوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سرگرم حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر غیر قانونی شکار اور کاروبار کی روک تھام کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مہمان پرندوں کی نسلوں اور قدرتی ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹنڈوباگو اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی شکار کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، پرندوں کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کا سراغ لگایا جائے اور محکمہ گیم ڈپارٹمنٹ کے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف غفلت یا مبینہ سرپرستی کے الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔



