روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، ٹرمپ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور وہ ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہتے جس سے روس نادانستہ طور پر مذاکرات کی میز سے دور ہوجائے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہورہی ہے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق روس ایران کی مدد کے لیے کم اقدامات کررہا ہے یا شاید کوئی مدد نہیں کررہا، حالانکہ روس اس سے کہیں زیادہ کرسکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال برقرار رہے اور مذاکراتی عمل آگے بڑھتا رہے، تاہم بعض افراد کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کرنے سے یہ کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
امریکی صدر نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ روس میں ڈیزل صاف کرنے والی ریفائنریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے عالمی ڈیزل مارکیٹ اور امریکی معیشت بھی متاثر ہورہی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق کسانوں، مویشی پالنے والوں اور مختلف شعبوں سے وابستہ کاروباری افراد کو ان حملوں کے باعث بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود روس کم قیمت پر دنیا کو لاکھوں بیرل ڈیزل فراہم کررہا ہے، لیکن زیلنسکی کو اس صورت حال کی کوئی پروا نہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کو بھاری مالی امداد اور سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ماضی میں فراہم کی گئی معاونت کے باوجود زیلنسکی جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی صدر ماضی میں بھی جنگ کے خاتمے کے خواہاں نہیں تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین دو سال قبل موجودہ حالات کے مقابلے میں کہیں بہتر معاہدہ کرسکتا تھا، لیکن اب ملک تباہی کا شکار ہے اور اس کے وسیع علاقے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔
انہوں نے یوکرین کو درپیش جانی و عسکری نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی مرد آبادی کا بڑا حصہ ہلاک یا زخمی ہوچکا ہے، جبکہ سمندری رسائی اور بحری حدود کے حوالے سے بھی اسے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ٹرمپ کے ان بیانات میں روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور دینے کے ساتھ زیلنسکی کی حکمت عملی پر شدید تنقید بھی نمایاں ہے۔ تاہم، ان کے الزامات اور مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس بیان میں فراہم نہیں کی گئی۔



