پولیو کے خلاف بڑا آپریشن، بدین میں 1,480 موبائل ٹیمیں بچوں تک پہنچیں گی

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/پی کے)ڈپٹی کمشنر بدین زارا زاہد کی زیر صدارت کمیٹی روم میں ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں 2 نومبر سے شروع ہونے والی قومی انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات، مائیکرو پلان اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین ضلع کونسل جام علی اصغر ہالیپوٹو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون کاشف رضا منگی اور مختلف محکموں کے متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ضلع کونسل جام علی اصغر ہالیپوٹو نے کہا کہ پولیو مہم کے دوران ضلع کونسل کی جانب سے محکمہ ریونیو اور محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یونین کونسلوں کے چیئرمین بھی مہم کے دوران عملی طور پر میدان میں موجود ہوں گے تاکہ گھر گھر جا کر عوام کو پولیو کے خطرناک اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے خصوصاً پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کے واقعات (ریفیوژل کیسز) ختم کرنے کے لیے یونین کونسلوں کے چیئرمینوں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ضلع کونسل کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا ڈپٹی کمشنر بدین زارا زاہد نے کہا کہ قومی انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تعلقہ فوکل پرسنز کا کردار اور ذمہ داریاں انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے متعلقہ تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ تعلقہ فوکل پرسنز کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے مائیکرو پلان کو بہتر اور مؤثر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ مائیکرو پلان سے متعلق مسائل کو تعلقہ سطح پر حل کیا جائے تاکہ مہم کے دوران کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو بروقت دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کی کامیابی میں پی پی ایچ آئی کا کردار بھی انتہائی اہم ہے، لہٰذا تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں ڈپٹی کمشنر نے سوشل ویلفیئر افسر کو ہدایت کی کہ شہروں اور دیہات میں عوام کو پولیو وائرس کے خطرات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے سماجی بہبود کی تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے تعاون سے مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے، تاکہ والدین میں شعور بیدار کرکے پولیو کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ پولیو جیسی خطرناک بیماری کا خاتمہ صرف حکومتی کوششوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے پورے معاشرے کو متحد ہوکر آگے بڑھنا ہوگا۔ بچوں کے صحت مند مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ ہر والدین اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے پولیو مہم میں بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ حفاظتی قطرے ہیں، جو بچوں میں بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس لیے پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر مہم کے دوران باقاعدگی سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے اجلاس کے دوران ڈاکٹر کریم بخش گاڈاہی نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2 نومبر سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے دوران پیدائش سے پانچ سال تک کی عمر کے 3 لاکھ 91 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مہم کے لیے 85 یو سی ایم اوز، 341 ایریا انچارجز، 1,480 موبائل ٹیمیں، 70 فکسڈ سائٹس، 48 ٹرانزٹ پوائنٹ ٹیمیں اور 84 ای پی آئی سینٹرز مقرر کیے گئے ہیں، جو مہم کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون کاشف رضا منگی، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر سرفراز سموں، اسسٹنٹ کمشنر بدین راجیش دلپت، اسسٹنٹ کمشنر شہید فاضل راہو محمد عاطف شفیق، اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ڈاکٹر راشد چنا، اسسٹنٹ کمشنر ٹنڈو باگو ثناء اللہ صدر، اسسٹنٹ کمشنر تلہار جامن داس سونارو، ڈی ایس پی بدین شکیل سولنگی، اے ڈی ایچ او ڈاکٹر وسیم عباس خواجہ، اے ڈی ایچ او ڈاکٹر ممتاز چانڈیو، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی بدین بی رضیہ اجن، ای پی آئی فوکل پرسن ڈاکٹر عباس ملاح، ڈاکٹر ثناء اللہ، ڈی آئی بی انچارج انسپکٹر محمد خان سومرو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر چائلڈ پروٹیکشن دین محمد ڈیرو، چیف میونسپل آفیسر بدین شیراز احمد، سی سی او دانش خواجہ ڈسٹرکٹ منیجر ہینڈز حیدر علی پنہور اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

مزید خبریں

Back to top button