پنگریو میں بارہویں جماعت کی طالبہ کو مبینہ ہراساں کرنے کا معاملہ، دو افراد کے خلاف مقدمہ درج، گرفتاری نہ ہوسکی

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے) پنگریو کے وارڈ نمبر 2 میں بارہویں جماعت کی طالبہ کو مبینہ طور پر تنگ اور ہراساں کیے جانے کا معاملہ سنگین رخ اختیار کرگیا، پولیس نے طالبہ کے والد کی فریاد اور ابتدائی تحقیقات کے بعد دو نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، تاہم آخری اطلاعات تک دونوں ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے۔

تفصیلات کے مطابق بارہویں جماعت کی طالبہ عروسا کھوسو نے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف چھ روز قبل اپنے والد حسین بخش کھوسو کے ہمراہ پنگریو پریس کلب پہنچ کر فریاد کی تھی۔ طالبہ اور اس کے اہل خانہ نے متعلقہ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

معاملہ اعلیٰ پولیس حکام کے نوٹس میں آنے کے بعد ایس ایس پی بدین نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی ٹنڈوباگو کو واقعے کی انکوائری کی ذمہ داری سونپی۔

پولیس کے مطابق ڈی ایس پی ٹنڈوباگو نے دونوں فریقین کو طلب کرکے ان کے بیانات قلمبند کیے اور معاملے کی چھان بین کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق انکوائری کے دوران طالبہ کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد طالبہ کے والد کی فریاد پر جنید کھوسو اور سرفراز کھوسو کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق دونوں نامزد افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 506(2)، 341، 377-B، 509 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے، تاہم آخری اطلاعات تک دونوں پولیس کی گرفت میں نہیں آسکے تھے۔

دوسری جانب واقعے کے باعث علاقے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ طالبہ کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر ہراساں کرنے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور طالبہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مقدمے میں عائد الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین تحقیقات اور متعلقہ قانونی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button