خلائی چٹان میں انسانی ڈی این اے؟حیران کن دعوے نے سائنس کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی، اصل حقیقت کیا ہے؟

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ،جانوڈاٹ پی کے) ایک حیران کن سائنسی دعوے نے دنیا بھر میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ اربوں سال پرانی خلائی چٹان میں انسانی جینیاتی مادے سے مشابہ آثار پائے گئے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ کبھی قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت ہوجائے تو یہ زندگی کی ابتدا، زمین پر انسانی وجود اور کائنات میں حیاتیاتی مادے کی موجودگی سے متعلق ہماری موجودہ سمجھ کو بنیادی طور پر چیلنج کرسکتا ہے۔

تاہم اس دعوے کے ساتھ ایک اہم سائنسی وضاحت بھی ضروری ہے۔ دستیاب معتبر سائنسی شواہد اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ کسی شہابیے یا خلائی چٹان میں مکمل انسانی DNA دریافت ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض رپورٹس میں ’’Human DNA‘‘ کی اصطلاح استعمال ہونے سے معاملہ انتہائی سنسنی خیز ہوگیا، حالانکہ سائنس دانوں نے مختلف خلائی نمونوں میں زندگی سے متعلق کیمیائی اجزا ضرور دریافت کیے ہیں۔

🧬 خلائی چٹان میں آخر ملا کیا؟

حالیہ برسوں میں خلائی مشنز سے حاصل کیے گئے نمونوں نے سائنس دانوں کو حیران کردیا ہے۔ جاپان کے Hayabusa2 مشن کے ذریعے سیارچے Ryugu سے زمین پر لائے گئے نمونوں کے تجزیے میں DNA اور RNA کے بنیادی کیمیائی اجزا، یعنی پانچوں معروف nucleobases، دریافت کیے گئے۔ یہ وہ کیمیائی ’’حروف‘‘ ہیں جن سے زمین پر موجود جینیاتی مادے کی ساخت بنتی ہے۔

اسی طرح NASA کے OSIRIS-REx مشن سے حاصل کیے گئے سیارچے Bennu کے نمونوں میں بھی متعدد نامیاتی مرکبات، 20 میں سے 14 amino acids اور DNA/RNA سے وابستہ پانچوں nucleobases کی موجودگی رپورٹ ہوئی۔

😱 کیا واقعی انسان خلاء سے آیا؟

یہی وہ سوال ہے جس نے اس معاملے کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔

سائنس دانوں کی جانب سے خلائی چٹانوں میں زندگی کے کیمیائی اجزا کی دریافت نے اس امکان کو ضرور تقویت دی ہے کہ زندگی کے لیے ضروری بنیادی کیمسٹری زمین سے باہر بھی موجود ہوسکتی ہے۔ لیکن ان کیمیائی اجزا کی موجودگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ انسان یا کوئی مکمل جاندار خلاء سے زمین پر آیا تھا۔

دوسرے الفاظ میں، DNA کے اجزا ملنا اور انسانی DNA ملنا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔

🌌 کیا زندگی کے بیج خلاء سے زمین پر پہنچے؟

یہاں سے بحث ایک دلچسپ نظریے کی طرف بڑھتی ہے جسے Panspermia کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق زندگی کے بنیادی اجزا یا ممکنہ طور پر خرد حیاتیاتی زندگی کے اجزا شہابیوں، دمدار ستاروں یا دیگر خلائی اجسام کے ذریعے ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک منتقل ہوسکتے ہیں۔

اب تک سامنے آنے والی دریافتیں اس سوال کو ضرور زندہ رکھتی ہیں کہ زمین پر زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا کہاں سے آئے، لیکن یہ ثابت نہیں کرتیں کہ زمین کی زندگی لازماً خلاء سے آئی تھی۔

🔬 ماہرین کیلئے سب سے بڑا سوال

اگر کسی خلائی نمونے میں واقعی ایسا جینیاتی مادہ ملنے کا دعویٰ کیا جائے جو انسانی DNA سے براہِ راست مطابقت رکھتا ہو تو سائنس دان سب سے پہلے contamination یعنی زمین سے نمونے میں انسانی یا حیاتیاتی مادے کی آلودگی کے امکان کو جانچیں گے۔

خلائی نمونوں کی تحقیق میں معمولی آلودگی بھی نتائج کو متاثر کرسکتی ہے، اسی لیے حقیقی انسانی DNA کی دریافت ثابت کرنے کے لیے انتہائی سخت تجرباتی کنٹرول، آزادانہ تصدیق اور بار بار تحقیق ضروری ہوگی۔

🚀 کائنات میں زندگی کی تلاش مزید اہم ہوگئی

Bennu اور Ryugu جیسے سیارچوں سے حاصل ہونے والے نمونوں نے ایک حقیقت ضرور واضح کردی ہے: زندگی کی کیمسٹری صرف زمین تک محدود نظر نہیں آتی۔

اربوں سال پرانے خلائی اجسام میں ایسے پیچیدہ نامیاتی مرکبات اور جینیاتی مادے کے بنیادی اجزا ملنا سائنس دانوں کو اس سوال پر مزید غور کرنے پر مجبور کررہا ہے کہ زندگی کے لیے ضروری ’’خام مال‘‘ کائنات میں کتنی جگہ موجود ہے۔

فی الحال ’’خلائی چٹان میں انسانی DNA‘‘ کا دعویٰ ثابت شدہ سائنسی حقیقت نہیں، لیکن خلائی نمونوں میں DNA اور RNA کے بنیادی کیمیائی اجزا کی دریافت واقعی ایک غیر معمولی سائنسی پیش رفت ہے، جو مستقبل میں زندگی کی ابتدا کے راز سمجھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button