سیاست دانوں کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے،راجہ ناصرعباس

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کیا گیا جس کے باعث ملک میں سیاسی عدم استحکام اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا، سیاست دانوں کو دیوار سے لگانے اور کمزور کرنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن چیمبر سینیٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان اس وقت خطرناک بحرانوں کا شکار ہے، ملک میں آئین اب متفقہ نہیں رہا جو تبدیلیاں آئین میں لائی گئیں وہ درست نہیں، اٹھارہویں آئینی ترمیم کس طرح سے لائی گئی وہ سب کو معلوم ہے، پاکستان میں آدھی سے زیادہ آبادی اس وقت سطح غربت کی لکیر سے نیچے ہے، امن و امان کا بحران بھی ملک میں بڑھتا جا رہا ہے۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عوام کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے، مہذب ممالک میں پیکا ایکٹ جیسے قوانین موجود نہیں، پیکا ایکٹ کے ذریعے میڈیا جو لوگوں کو باخبر رکھتے ہیں ان پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں، پاکستان میں جتنے بھی سوفٹ معاملات ہیں ان سب پر پابندی لگائی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ خود کہتے ہیں کہ ملک میں نظام کولیپس کرچکا، پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم پانچ سال مکمل کریں گے، ہم سیاسی راستے، جمہوری عمل اور سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی غیر جمہوری ایڈونچر کا حصہ نہیں بنیں گے عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہوا، ہم ایسے سیاسی اقدامات اور غیر جمہوری رویوں کی حمایت نہیں کرتے ہمارے لیے عوام، آئین اور قانون سب سے مقدم ہیں اور ہم کسی کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی سیاست کے قائل نہیں۔

انہوں ںے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قوتوں کے درمیان غیر رسمی رابطوں میں نہیں بلکہ سیاسی قیادت کے مابین بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین سے وفاداری کا حلف اٹھانے والے تمام اداروں اور شخصیات پر آئین کی پاسداری لازم ہے آئین طاقتور طبقات کے لیے کھلونا نہیں بلکہ ایک مقدس قومی دستاویز ہے اور اس کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، کسی فرد یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں، حکومت کے وزراء اپنے آئینی اور قانونی فرائض کی ادائیگی کے پابند ہیں جبکہ وزیراعظم بحیثیت چیف ایگزیکٹو ریاستی معاملات پر جواب دہ ہیں۔

قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کا آئین ایک واضح، جامع اور ترقی پسند دستاویز ہے، مگر افسوس کے ساتھ اس کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہمیشہ اخلاقی، آئینی اور جمہوری حدود میں رہتے ہوئے حکومت پر تنقید کرتی ہے اور پارلیمنٹ کے اندر حکومت کے ہر اقدام پر بھرپور اور مؤثر آواز اٹھاتی رہے گی۔

مزید خبریں

Back to top button