پٹرولیم لیوی ختم ہوگی یانہیں؟حکومت اورجماعت اسلامی میں مذاکرات،6تجاویز پیش،جماعت کا احتجاج جاری رکھنے کااعلان

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا، تاہم جماعت اسلامی نے واضح کردیا ہے کہ مذاکرات کے باوجود اس کا دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔

وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی میں ہونے والے مذاکرات میں جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کی، جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔ دونوں جانب سے پیٹرولیم لیوی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں سمیت عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے حکومت کے سامنے چھ تجاویز پیش کردیں۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت کو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے باعث معیشت متاثر ہورہی ہے اور عوام پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ مذاکرات کا پہلا دور خوشگوار ماحول میں ہوا، تاہم جماعت اسلامی کا احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔ ان کے مطابق حکومت کو جماعت اسلامی کی تمام تجاویز سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کو مذاکرات کی دعوت دی اور تجاویز طلب کی تھیں۔ حکومت عوام پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی، تاہم عالمی معاشی حالات اور ایران جنگ کے اثرات کے باعث بعض مواقع پر حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

احسن اقبال کے مطابق حکومت جماعت اسلامی کی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے گی۔ قابلِ عمل تجاویز کو آگے بڑھایا جائے گا جبکہ اگر کوئی تجویز ناقابلِ عمل ہوئی تو اس کی وجوہات بھی جماعت اسلامی کے سامنے رکھی جائیں گی۔

حکومتی ٹیم متعلقہ اداروں سے تجاویز پر رائے لینے کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو کرے گی۔

یوں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق تو ہوگیا ہے، لیکن پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبے پر حتمی پیش رفت ابھی سامنے نہیں آئی۔

مزید خبریں

Back to top button