پٹرولیم سیکٹر میں سرمایہ کاری اور توانائی کے تحفظ کیلئے اصلاحات جاری ہیں، علی پرویز ملک

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں، جن میں توانائی کے تحفظ، سرمایہ کاری کے مواقع اور پٹرولیم سیکٹر میں جاری اصلاحات پر اہم تبادلہ خیال کیا گیا۔
او آئی سی سی آئی کے اجلاس میں صنعتی شعبے، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ممتاز میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت ایک مسابقتی، سرمایہ کاری دوست اور ملک کی طویل مدتی توانائی ضروریات سے ہم آہنگ پٹرولیم سیکٹر تشکیل دے رہی ہے، جبکہ ایکسپلوریشن، ریفائننگ اور ڈاؤن اسٹریم مارکیٹس میں اصلاحات جاری ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پٹرولیم ریزروز توانائی کے تحفظ کیلئے حکومتی اقدامات کا حصہ ہیں۔
او آئی سی سی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ پالیسی اور ٹیکس فریم ورک میں تسلسل، شفافیت اور سکیورٹی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کیلئے اہم ہیں۔ حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل مکالمہ عملی مسائل کے حل اور سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
صدر او آئی سی سی آئی نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے ریگولیٹری اور تجارتی ماحول میں استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔
دوسری جانب پی ایس او کے اجلاس میں قومی توانائی کے تحفظ، سپلائی چین اور اسٹریٹجک اسٹوریج سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ پٹرولیم وزیر نے ملک میں بلاتعطل ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے پی ایس او کی کوششوں کو سراہا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ اسٹریٹجک اسٹوریج کی استعداد بڑھانے اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پٹرولیم سیکٹر میں کارکردگی اور بروقت ردعمل بہتر بنانے کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے بھرپور استفادہ کرنے پر بھی زور دیا۔



