ایکواڈور کے سابق صدر لینین مورینو کو رشوت ستانی کیس میں 5 سال قید کی سزا

کیٹو (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکواڈور کی عدالت نے سابق صدر لینین مورینو کو چینی کمپنی سائنوہائیڈرو سے رشوت لینے کے جرم میں 5 سال قید کی سزا سنا دی۔ انہیں آئندہ کسی بھی سرکاری عہدے کیلئے مستقل طور پر نااہل بھی قرار دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کیس تقریباً 2 ارب ڈالر کے کوکا کوڈو سنکلیئر پن بجلی منصوبے سے متعلق ہے، جس کی تعمیر چینی کمپنی سائنوہائیڈرو نے کی تھی۔ استغاثہ کے مطابق 2009 سے 2018 کے دوران ٹھیکے سے متعلق ایک مبینہ کرپشن نیٹ ورک میں تقریباً 76.1 ملین ڈالر کی رشوت دی گئی۔

عدالت کے مطابق مورینو نے اس معاملے میں اس وقت اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا جب وہ 2007 سے 2013 تک ایکواڈور کے نائب صدر تھے۔ وہ بعد ازاں 2017 سے 2021 تک ملک کے صدر رہے۔

73 سالہ لینین مورینو جسمانی معذوری کے باعث اپنی سزا گھر میں نظر بندی کے تحت پوری کریں گے۔ مورینو نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے منصوبے کے معاہدوں پر دستخط نہیں کیے اور نہ ہی ان کی نگرانی کی۔

عدالت نے مورینو کے خاندان کے بعض افراد کو بھی مبینہ معاونت کے جرم میں سزائیں سنائیں، جبکہ سابق چینی سفیر کائی رونگ گو کو بھی 5 سال قید کی سزا دی گئی۔

مزید خبریں

Back to top button