کڈھن مبینہ پولیس مقابلہ کیس میں نیا موڑ، مقتول کی والدہ ہائیکورٹ پہنچ گئیں، پولیس اہلکاروں کو نوٹس

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)کڈھن کے قریب گزشتہ ماہ 26 جولائی کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے محرم دل کی ہلاکت کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ پہنچ گیا، جہاں مقتول کی والدہ مسمات سومل دل کی درخواست پر عدالت نے ایس ایس پی بدین سمیت پولیس کے متعدد افسران و اہلکاروں کو نوٹس جاری کردیئے۔
عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ایس ایس پی بدین، ڈی ایس پی بدین، ایس ایچ او کڈھن، ایس ایچ او بدین، سی آئی اے بدین کے انچارج سمیت دیگر پولیس افسران و اہلکاروں سے جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 25 اگست کو مقرر کردی۔
محرم دل کی والدہ نے اس سے قبل سیشن کورٹ بدین سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر پہلے ہی حراست میں لیا جاچکا تھا اور بعد ازاں اسے جعلی پولیس مقابلہ ظاہر کرکے قتل کردیا گیا۔ درخواست سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج کو منتقل ہوئی، تاہم عدالت نے اسے مسترد کردیا، جس کے بعد سومل دل نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
پولیس کی جانب سے 26 جولائی کو جاری ہینڈ آؤٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کڈھن شہر کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں آئس کے ڈیلر محرم دل کو ہلاک کردیا گیا جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے حیدرآباد منتقل کیا گیا۔
تاہم واقعے کے بعد سامنے آنے والی بعض میڈیکل رپورٹس اور پولیس ذرائع سے منسوب معلومات نے مبینہ مقابلے کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی حیدرآباد نے دورانِ عیادت زخمی پولیس اہلکار عاشق بھنبھر سے مبینہ مقابلے کے بارے میں سوالات کیے۔
ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار سے مبینہ طور پر یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر محرم دل اس کے بالکل سامنے تھا تو گولی جسم کے ایک جانب سے داخل ہوکر دوسری جانب سے کیسے گزری۔ بتایا جاتا ہے کہ زخمی اہلکار اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
مقتول کی والدہ سومل دل نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا تھا اور اس کی رہائی کے لیے پانچ لاکھ روپے رشوت طلب کی گئی۔ ان کے مطابق رقم ادا نہ کرنے پر محرم کو مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا۔
محرم دل کی اہلیہ نے بھی دعویٰ کیا کہ محرم انہیں اور بچوں کو ان کے والدین کے گھر کڈھن چھوڑنے گیا تھا، جہاں سے واپسی پر پولیس نے اسے گاڑی سمیت مبینہ طور پر حراست میں لے لیا اور بعد ازاں مقابلے میں ہلاک کردیا۔
سومل دل نے مزید الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد ان کی بیٹی اور بیٹوں سمیت خاندان کے دیگر افراد کے خلاف بھی مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔
عدالت کی جانب سے جاری نوٹس میں ایس ایس پی بدین، ڈی ایس پی بدین، ایس ایچ او کڈھن، سی آئی اے بدین کے انچارج سب انسپکٹر گل حسن لغاری، ایس ایچ او بدین علاءالدین خاصخیلی، اے ایس آئی موہن کولہی، ڈبلیو ایچ سی حنیف پنہور، منشی شریف ملاح سمیت متعدد پولیس اہلکاروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
مقتول کی والدہ نے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ محرم دل کی ہلاکت اور مبینہ پولیس مقابلے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
اب نظریں 25 اگست کی سماعت پر ہیں، جہاں عدالت کے سامنے پولیس کا مؤقف اور واقعے سے متعلق اٹھنے والے سوالات اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔



