امریکا نے آبنائے ہرمز پر خفیہ کنٹرول سنبھال لیا؟روزانہ ایک کروڑ بیرل تیل کی ترسیل کا بڑا دعویٰ

واشنگٹن/(جانو ڈاٹ پی کے)خلیج کی کشیدہ صورتحال میں ایک بڑا دعویٰ سامنے آگیا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈی تک تیل کی ترسیل جاری رکھنے کیلئے مبینہ طور پر ایک خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرلیا ہے، جس کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل تیل بحفاظت منتقل کیا جارہا ہے۔

رپورٹ میں دو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری اس آپریشن کے تحت ہر رات 15 سے 20 آئل ٹینکرز عمان کے ساحل کے ساتھ واقع جنوبی چینل سے آبنائے ہرمز میں داخل یا باہر نکل رہے ہیں۔

روزانہ ایک کروڑ بیرل تیل کی ترسیل کا دعویٰ

امریکی حکام کے مطابق اس وقت تقریباً ایک کروڑ بیرل تیل روزانہ آبنائے ہرمز سے بحفاظت عالمی توانائی مارکیٹ تک پہنچ رہا ہے، جو جنگ سے پہلے کے حجم کا تقریباً نصف بنتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کا کردار صرف تیل بردار جہازوں کو حفاظتی حصار میں آبنائے سے گزارنے تک محدود نہیں۔ امریکی فورسز خالی ٹینکرز کو بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے، خطے کے ممالک سے تیل بھرنے اور پھر محفوظ طریقے سے واپس نکلنے میں بھی معاونت فراہم کررہی ہیں۔

’ہرمز کا کنٹرول ہمارے پاس ہے‘

معاملے سے براہ راست آگاہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا گزشتہ دو ماہ سے آبنائے ہرمز کی جنوبی لین کو کنٹرول کررہا ہے۔

عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ پاسداران انقلاب اس بحری راستے میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول ایرانی فورسز کے پاس نہیں بلکہ امریکی فوج کے پاس ہے۔

رات کے اندھیرے میں بڑے بحری قافلے

رپورٹ کے مطابق ہرمز آپریشن کی نگرانی کرنے والی ٹاسک فورس شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں قائم آرمی ہیڈکوارٹرز سے کام کررہی ہے اور خلیجی شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔

ٹاسک فورس روزانہ جہازوں کی فہرستیں تیار کرتی ہے، جنہیں مخصوص شیڈول کے تحت رات کے وقت بڑے قافلوں کی صورت میں آبنائے سے گزارا جاتا ہے۔

اس دوران امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیارے ممکنہ ایرانی کروز میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف فضائی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

ایران کی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہونے کا دعویٰ

ایگزیوس کے مطابق یہ آپریشن امریکی سینٹرل کمانڈ کی دو ہفتوں پر محیط فوجی مہم کے بعد ممکن ہوا، جس کے نتیجے میں ایران کے ریڈار اور سمندری نگرانی کے نظام کو شدید نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فورسز کی جنوبی چینل میں بحری ٹریفک کی نگرانی کی صلاحیت کم ہوئی ہے، جس کے باعث مبینہ طور پر بعض ڈرونز اور کروز میزائل جہازوں کے متوقع راستوں کی جانب اندازے سے داغے جارہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کچھ بحری جہاز ایرانی حملوں کا نشانہ بنے، تاہم امریکی فوج نے زیادہ تر حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

عالمی تیل منڈی کیلئے بڑی خبر

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے یہاں سے تیل کی ترسیل کا جاری رہنا عالمی توانائی مارکیٹ کیلئے انتہائی اہم ہے۔

اگر امریکی دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ آپریشن نہ صرف عالمی تیل کی سپلائی کو مکمل تعطل سے بچانے کی کوشش ہے بلکہ آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری طاقت کے مقابلے کی شدت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

تاہم امریکی حکام کے دعووں اور آپریشن کی تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔

مزید خبریں

Back to top button