ماتلی بجلی بحران سنگین، متعدد ٹرانسفارمرز کئی ماہ سے خراب، شہری سراپا احتجاج

 ماتلی (رپورٹ اے۔ایم۔گدی) ماتلی میں شدید گرمی کے دوران حیسکو کی جانب سے غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا، مختلف علاقوں میں 14 سے 18 گھنٹے تک بجلی کی بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی، بجلی سے وابستہ کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کے ساتھ گھروں میں پانی کی قلت بھی سنگین ہوگئی، جبکہ مویشی پال افراد بھی بجلی سے چلنے والی چارہ کاٹنے کی مشینیں بند رہنے کے باعث اپنے جانوروں کے لیے چارے کے حصول میں پریشان ہیں۔ شہریوں کے مطابق ماتلی میں متعدد ٹرانسفارمرز اوور لوڈنگ کے باعث بار بار جل رہے ہیں اور ٹرانسفارمرز کی مرمت و مینٹیننس کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض ٹرانسفارمرز کی مرمت کے دوران مبینہ طور پر کاپر کی تاروں کی جگہ کم معیار کی تاریں استعمال کیے جانے کے باعث ٹرانسفارمرز صارفین کا بجلی کا لوڈ برداشت نہیں کر پاتے اور دوبارہ دھماکے سے جل جاتے ہیں، جس کے بعد شہریوں کو اپنی مدد آپ کے تحت ٹرانسفارمرز کی مرمت کے لیے لاکھوں روپے تک چندہ جمع کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ماتلی کے مختلف علاقوں میں خراب ٹرانسفارمرز کی تبدیلی میں بھی غیر معمولی تاخیر جاری ہے، بعض علاقوں میں 30، بعض میں 40، بعض میں 50 جبکہ بعض مقامات پر تقریباً 60 روز گزرنے کے باوجود ٹرانسفارمرز نصب نہیں کیے گئے، جس کے باعث علاقہ مکین شدید گرمی میں مسلسل اذیت کا شکار ہیں۔ شہریوں کے مطابق سیٹھ دریانہ مل رائس مل کے آفس کے سامنے جمیل کالونی کا ٹرانسفارمر، جو زکریا مسجد کے سامنے نصب پولوں پر موجود ہے، گزشتہ 13 سے 14 ماہ سے بحال یا تبدیل نہیں کیا گیا، جبکہ مذکورہ مقام پر ایمرجنسی ٹرالی فراہم کیے جانے کو بھی طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ طویل بجلی بندش کے باعث واٹر سپلائی کا نظام بھی متاثر ہے اور گھروں میں پینے سمیت روزمرہ استعمال کے پانی کی قلت برقرار ہے، جبکہ دکانیں، ورکشاپس، مشینری اور بجلی سے وابستہ دیگر کاروبار کئی کئی گھنٹے بند رہنے سے کاروباری افراد کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ شہریوں نے حیسکو حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ماتلی میں مبینہ کنڈا مافیا اور بجلی چوری کے بڑے نیٹ ورک کے خلاف بلاامتیاز مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین اور کاروباری طبقے کو طویل لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے صرف کنڈے اتارنے کے بجائے اس پورے نظام کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں اور اگر کسی حیسکو اہلکار یا متعلقہ عملے کی غفلت، نااہلی یا مبینہ ملی بھگت ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ شہریوں نے ماتلی حیسکو میں ٹرانسفارمرز کی خریداری، تنصیب، مرمت و مینٹیننس، مبینہ ناقص سامان کے استعمال، بجلی چوری اور کنڈا سسٹم سمیت ٹرانسفارمرز کی تبدیلی میں غیر معمولی تاخیر کی ایف آئی اے کے ذریعے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ شہریوں نے حیسکو حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ماتلی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ، طویل عرصے سے خراب ٹرانسفارمرز کی ہنگامی بنیادوں پر تبدیلی، بجلی چوری کے نیٹ ورک کا قلع قمع اور قانونی صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔#

مزید خبریں

Back to top button