مکہ دفاعی اتحاد میں ایران کی شمولیت کا امکان،روسی وزیر خارجہ کا بڑادعویٰ

ماسکو (جانو ڈاٹ پی کے) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایران بھی مستقبل میں اس علاقائی دفاعی فریم ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔

تازہ رپورٹ کے مطابق سرگئی لاوروف نے مکہ معاہدے کو خطے میں اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کے وسیع تر نظام کی جانب ایک ممکنہ عملی قدم قرار دیا۔ موجودہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قائم ہوا ہے اور اس میں دیگر ممالک کے لیے بھی شمولیت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

لاوروف نے کہا کہ اگر مصر اور الجزائر بھی مکہ معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ مثبت پیش رفت ہوگی اور روس کی جانب سے پیش کیے گئے علاقائی سلامتی کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے خاص طور پر ایران کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر متعلقہ ممالک تہران کی شرکت کے لیے شرائط پر اتفاق کرلیں تو یہ خطے میں وسیع تر اجتماعی سلامتی کے نظام کی تشکیل کی جانب عملی پیش رفت ہوگی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ بعد ازاں تینوں ممالک نے اس انتظام کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے اور سعودی عرب میں سیکریٹریٹ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

لاوروف کے بیان کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی دفاعی اور سفارتی صورتحال میں مکہ دفاعی معاہدے کی ممکنہ توسیع نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم ایران کی شمولیت اس وقت ایک امکان کے طور پر زیرِ بحث ہے، باضابطہ رکنیت کا اعلان نہیں ہوا۔

مزید خبریں

Back to top button