کراچی آرٹس کونسل میں یومِ دفاع کی پروقار تقریب، شہداء کو خراجِ عقیدت

ملی نغموں سے گونج اٹھا کراچی آرٹس کونسل، شہداء کی یاد میں جذباتی مناظر

تھرپارکر(میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان محافظ فورم کے زیرِ اہتمام کراچی آرٹس کونسل میں 6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر عظمتِ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سندھ اور بلوچستان بھر سے فورم کے عہدیداران اور اراکین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کا انعقاد پاکستان محافظ فورم کے مرکزی سرپرستِ اعلیٰ صاحبزادہ ڈاکٹر عابد سلطان باھُو، مرکزی چیئرمین راجہ سرور سومرو اور مرکزی سینئر نائب صدر نثار احمد ابڑو کی خصوصی ہدایات پر کیا گیا۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے ہوا۔ ایف سی کالج کراچی کے پروفیسر خورشید خان نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

یومِ دفاع کی مناسبت سے 1965ء کی جنگ اور وطنِ عزیز کے دفاع میں پاک افواج کی جانب سے رقم کی گئی عسکری تاریخ کے اہم واقعات پر مشتمل ایک پرجوش ڈاکیومینٹری بھی پیش کی گئی، جس نے تقریب کے شرکاء میں جوش و جذبہ پیدا کردیا۔ کراچی کے معروف گلوکار ناصر خان نے ملی نغمے پیش کرکے تقریب کے ماحول کو مزید پُرجوش بنا دیا۔

مقررین نے 1965ء کی جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو قومی تاریخ کا قابلِ فخر باب قرار دیا۔ تھرپارکر کی نمائندگی کرتے ہوئے سارنگ رام نے تقسیمِ ہند اور 1965ء کی جنگ کے دوران سرحدی علاقوں کی صورتحال، مقامی آبادی کے پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور پاکستان سے وفاداری کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔

سارنگ رام نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں مقیم لوگوں نے پاکستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی، جبکہ جو افراد خانہ جنگی کے خدشات کے باعث عارضی طور پر بھارت منتقل ہوئے تھے، امن قائم ہونے کے بعد واپس سندھ، پاکستان آگئے۔ ان کے مطابق یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں نے مذہبی تفریق کے بجائے حب الوطنی کو ترجیح دی۔

انہوں نے 1965ء کے بی آر بی اور چونڈہ کے معرکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج شاہ عبداللطیف بھٹائی حیات ہوتے تو شاید وہ اپنے رسالے میں ’’سر کیڈارو‘‘ کو ایک نئے انداز میں رقم کرتے۔

سارنگ رام نے پاکستان میں ہندو برادری کی ترقی و خوشحالی اور پاک فوج میں ہندو نوجوانوں کی بھرتی کے عمل کو بھی سراہا اور پاک افواج کی خدمات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔

تقریب کے دوران حسنِ کارکردگی اور خدمات کے اعتراف میں مہمانوں اور دیگر شخصیات کو ٹوکن آف اپریسیئشن اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے۔ پاکستان محافظ فورم کی چیئرپرسن بننے اور ماضی میں حسنِ خدمات انجام دینے پر ڈاکٹر سدرہ سعید کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ سندھ کے لیے نئے چیئرمین مقرر کیے جانے پر جام عمار خان کو مبارکباد دی گئی اور ان کی خدمات کو سراہا گیا۔

مقررین نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں ملکی دفاع کے لیے پاک فوج کی خدمات، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دفاعی استعداد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر پاک فوج سمیت ملک کے تمام دفاعی اداروں کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔

صدر دسرت شرما نے یومِ دفاع کے موقع پر پاک افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ایران امریکہ تنازع کے دوران ثالثی کے کردار اور امن کے لیے کوششوں پر مبارکباد پیش کی۔

تقریب کے دوران ڈاکٹر سدرہ سعید نے خود بھی ملی نغمہ پیش کیا، جس سے شرکاء میں جوش و ولولہ مزید بڑھ گیا۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا، جبکہ شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وطنِ عزیز کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button