"آؤ ایک نئی دنیا بسائیں”برادریوں کے غیر فطری جھگڑے نہیں چاہئیں

تحریر:میندھرو کاجھروی
تھرپارکر کے بیراجی علاقے، خصوصاً لاڑ پٹی اور مہراڻو کے معاشرے میں صدیوں سے باہمی میل جول، بھائی چارے، انسانیت اور احترامِ باہمی کی روایات موجود رہی ہیں۔ یہاں کے لوگ مختلف ذاتوں، برادریوں اور سماجی پس منظر رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے آئے ہیں۔ شادیوں، غمیوں، سماجی تقریبات اور روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا اس خطے کی پہچان رہا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف برادریوں، خصوصاً لنڈ اور میگھواڑ برادری کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو اس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے گویا وہ ایک دوسرے کے فطری مخالف ہوں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دونوں برادریوں کے تعلقات احترام، ہمسائیگی اور مشترکہ سماجی مفادات پر مبنی رہے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے مفادات، ذاتی خواہشات اور وقتی فائدے کی خاطر بڑے سماجی اقدار کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسے عناصر بھی سرگرم ہو جاتے ہیں جو اپنے مقاصد کے لیے مظلوم طبقات کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ نتیجتاً وہ برادریاں، جو دراصل ایک جیسے مسائل، محرومیوں اور مشکلات کا سامنا کر رہی ہوتی ہیں، آپس میں ہی اختلافات کا شکار بن جاتی ہیں۔
تھرپارکر کی سماجی تاریخ بتاتی ہے کہ اس خطے میں لوگوں کی شناخت ذات پات سے زیادہ انسانیت، وفاداری، سچائی اور بھائی چارے سے ہوتی رہی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اپنی اولاد کو نفرت نہیں بلکہ محبت کا درس دیا۔ انہوں نے انسان کو انسان سمجھ کر عزت دینا سکھایا۔ یہی اقدار اس معاشرے کی اصل طاقت رہی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ماضی کی ان روشن روایات کو یاد کریں۔ اختلافات کو عقل، برداشت اور مکالمے کے ذریعے حل کریں۔ کسی بھی تنازعے کو ذاتی یا برادری کی جنگ بنانے کے بجائے اس کا منصفانہ اور قانونی حل تلاش کریں۔ کیونکہ نفرت کا نتیجہ صرف مزید نفرت، نقصان اور سماجی تقسیم ہے، جبکہ محبت اور برداشت ہی ترقی، امن اور استحکام کا راستہ دکھاتی ہیں۔
لاڑ پٹی، مہراڻو، کلوئی، کاجھر، اڈیٹو، کھاڑک، لس، ونگو اور ہاکڑو کے علاقوں کے راستے، رسم و رواج اور روایات مشترکہ تاریخ کے امین ہیں۔ یہاں آباد تمام برادریاں اس دھرتی کی وارث ہیں۔ کسی ایک برادری کی ترقی یا نقصان کو دوسری برادری سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ سب کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
لنڈ، میگھواڑ اور دیگر کئی برادریاں سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں آپس کے جھگڑوں کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار، پانی، زراعت اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے مل کر جدوجہد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طاقتور اور بااثر طبقات کے مقابلے میں کمزور اور محروم طبقات کی اصل طاقت ان کے اتحاد میں ہے، اختلافات میں نہیں۔
سندھی معاشرے کی خوبصورتی مہمان نوازی، درگزر، رواداری اور بھائی چارے میں ہے۔ ہماری ثقافت ہمیشہ یہ سکھاتی آئی ہے کہ راستے بند نہ کیے جائیں، دلوں کے دروازے بند نہ کیے جائیں اور ناراضیوں کو مستقل دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے۔ یہی روایات ہماری شناخت ہیں اور یہی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نفرت کے بجائے محبت، تنازعے کے بجائے مفاہمت اور ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی بھلائی کو ترجیح دی جائے۔ کیونکہ تاریخ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اختلافات کے باوجود مل جل کر رہنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں، نہ کہ وہ جو آپس میں لڑ کر اپنی طاقت ضائع کر دیتی ہیں۔



